سندھ

پولیس سے پوچھوں گا کہ اگر گھر راؤ انوار کا نہیں تھا تو چھاپا کیوں مارا گیا: سہیل انور سیال

کراچی: وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے اسلام آبا دمیں کی جانی والی کارروائی کے بارے پوچھوں گا اگر وہ گھر راؤ انوار کا نہیں تھا تو اس پر چھاپا کیوں مارا گیا؟ راؤ انوار کی آخری لوکیشن راولپنڈی کی آئی تھی ،پولیس کو تحقیقات کے لئے ہر طرح سے سپورٹ فراہم کرنے کے لئے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو خط لکھ دیا ہے جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے پولیس کو مکمل تعاون فراہم کیاجارہاہے۔

نجی چینل ”جیو نیوز“کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ کچھ اور مشکوک پولیس مقابلوں کی بھی تفصیلات آرہی ہیں تحقیقات کرائیں گے جو بھی جعلی مقابلوں میں مارا گیا ہے اس کو انصاف ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نقیب اللہ کیس میں پولیس کا جے آئی ٹی بنانے کا طریقہ کار غلط تھا،انویسٹی گیشن ٹیم محکمہ داخلہ ہی بناتی ہے اب میرے پاس نئی کمیٹی بنانے کے لئے سمری موصول ہوچکی ہے جس پرجلد ہی عمل درآمد ہوجائے گا۔

وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ راؤ انوارآئی جی سندھ کے ماتحت ہی تھا اس سے قبل جب اسے معطل کیا گیاتو اس کی بحالی اسی صورت ہوئی ہوگی وہ بے گناہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ قانون اور اختیارات کے تحت ہم نے سندھ میں حالات بہتر کیے ایک پولیس افسر کی انکوائری ایک پولیس افسرہی کر سکتا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close