بلاگ

گاندھی کو کس نے مارا؟

کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی کے سامنے ایک لمحۂ فکریہ ہے: یا تو وہ یہ ثابت کریں کہ مہاتما گاندھی کے قتل میں ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کا ہاتھ تھا یا پھر آر ایس ایس سے معافی مانگیں۔

مہاتاما گاندھی کو آزادی کے صرف پانچ مہینے بعد 30 جنوری 1948 کو قتل کیا گیا تھا اور ان کے قتل کے جرم میں ناتھو رام گوڈسے کو پھانسی دی گئی تھی۔ گوڈسے کا تعلق آر ایس ایس اور ہندو مہاسبھا سے تھا اور مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس وقت کے وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے آر ایس ایس پر عارضی پابندی بھی عائد کی تھی۔

راہل گاندھی نے دو برس قبل پارلیمانی انتخابات کے دوران کہا تھا کہ ’آر ایس ایس کے لوگوں نے گاندھی جی کو مارا تھا۔۔۔ اور اب وہ سردار پٹیل اور جواہر لال نہرو کی بات کرتے ہیں۔‘

آر ایس ایس نے اس بیان کے بعد راہل گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ قائم کیا تھا۔ مقدمہ خارج کرانے کے لیے راہل گاندھی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے لیکن عدالت نے کہا کہ یا تو اپنا الزام ثابت کیجیے یا معافی مانگیے، ورنہ مقدمے کا سامنا کرنا ہو گا کیونکہ ’آپ پوری تنظیم کو ایک ہی رنگ میں نہیں رنگ سکتے

مقدمے کی سماعت کے دوران گوڈسے نے بنیادی طور پر یہ کہا تھا کہ گاندھی قیام پاکستان کے لیے ذمہ دار تھے اور مسلمانوں کی حمایت کرتے تھے۔

گوڈسے نے عدالت میں دعوی کیا کہ ’میں نے اس شخص پر گولیاں چلائیں جس کی وجہ سے لاکھوں ہندوؤں کو بربادی کا سامنا کرنا پڑا۔‘

اس مقدمے میں سخت گیر ہندو مہاسبھا کے سابق صدر ونایک ساورکر کو بھی ملزم بنایا گیا تھا لیکن ان پر جرم ثابت نہیں ہو سکا حالانکہ مورخ اے جی نورانی کے مطابق سردار پٹیل نے وزیر اعظم نہرو کو لکھا تھا کہ قتل کی سازش جن لوگوں نے تیار کی تھی ان کی براہ راست سربراہی ساورکر ہی نے کی تھی۔

انڈیا میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ گاندھی کے قاتل گوڈسے کا تعلق آر ایس ایس اور ہندو مہا سبھا سے تھا۔

لیکن سپریم کورٹ کے اس حکم سے ایک نئی سیاسی بحث شروع ہو سکتی ہے۔ اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ راہل گاندھی اپنا بیان واپس لیں گے، یا معافی مانگیں گے۔

ان کے وکیل نے جرح کے دوران کہا کہ جو کچھ راہل گاندھی نے کہا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے، اور حکومت کے ریکارڈ میں بھی شامل ہے۔ لیکن اس دلیل سے عدالت مطمئن نہیں ہوئی۔

اگر راہل گاندھی پر یہ مقدمہ چلتا ہے تو آزاد ہندوستان کے پہلے سیاسی قتل کی تمام پرتیں اور باریکیاں دوبارہ سے قانون کی کسوٹی پر پرکھی جا سکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close