بلاگ

نچلے طبقوں سے تعلق ‘مدافعتی نظام کے لیے نقصان دہ

بندروں پر کیے جانے والے تجربات سے ظاہر ہوا کہ کمتر سماجی رتبہ مدافعتی نظام کو تبدیل کر دیتا ہے جس سے دل کی بیماری، ذیابیطس اور دماغی مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔

ایک ماہر نے کہا کہ تحقیق زبردست طریقے سے انسانوں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

جریدے ‘سائنس’ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کا تعلق غیرصحت مندانہ رویے یا ناقص خوراک سے نہیں ہے۔

امیر اور غریب کے درمیان متوقع عمر کی خلیج بہت چوڑی ہے۔ امریکہ میں امیر اور غریب مردوں کی زیادہ سے زیادہ عمر میں دس برس کا فرق ہے، جب کہ عورتوں میں یہی فرق 15 سال کا ہے۔

اس کی ایک توجیہ یہ ہے کہ غریب طبقوں سے تعلق رکھنے والے عام طور پر غیرصحت مندانہ طرزِ زندگی اپناتے ہیں، مثلاً زیادہ سگریٹ نوشی، کم ورزش اور ناقص غذا۔

لیکن حالیہ تحقیق اس سے ایک قدم آگے جا کر بتاتی ہے کہ اس قسم کے تمام مضر رویے علیحدہ کرنے کے بعد بھی کمتر سماجی رتبہ جسم پر مضر اثرات مرتب کرتا ہے۔

45 مختلف بندروں پر تحقیق سے سائنس دانوں کو یہ موقع ملا کہ وہ صرف سماجی رتبے کی بنیاد پر نتائج اخذ کریں۔ انسانوں میں اس قسم کی تحقیق ناممکن ہے۔

ریسس بندریاؤں کو پانچ پانچ جانوروں پر مشتمل نو گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔

ہر گروہ میں آنے والی نئی رکن خودبخود تقریباً ہمیشہ کمترین سماجی رتبے کی حامل ہو جاتی تھی۔ سائنس دانوں نے دیکھا کہ وہ ‘مستقل تناؤ’ کا شکار رہتی تھی، دوسرے اس کی بہت کم دیکھ بھال کرتے تھے اور اسے ہر وقت ہراساں کیا جاتا تھا۔

بندروں کے خون کے تفصیلی تجزیے سے پتہ چلا کہ سب سے اونچے اور سب سے نچلے درجے کی بندریاؤں کے مدافعتی نظام کے جینز کی سرگرمی کے درجے میں 1600 سے زائد فرق موجود ہیں۔

دیکھنے میں آیا کہ اس کے باعث کمتر بندریاؤں کا مدافعتی نظام زیادہ جارحانہ طریقے سے کام کرتا ہے، اور خود اپنے جسم کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے، جس سے بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

تحقیق میں شامل ایک سائنس دان ڈاکٹر نووا سنائڈر میکلر نے بی بی سی کو بتایا: ‘اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انفرادی جانوروں کے رویے کے علاوہ کوئی اور بھی چیز ہے جو ان کی ناقص صحت کا باعث بن رہی ہے۔

‘ہم جانتے ہیں کہ سگریٹ نوشی، مضر صحت خوراک اور کم ورزش صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، اس سے کسی فرد پر اس کی صحت کی خرابی کا الزام دھرا جا سکتا ہے۔

ہماری تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے علاوہ دوسرے پہلو بھی ہیں۔ کمتر سماجی رتبہ فرد کے اختیار سے باہر ہے اور اس کے بھی صحت پر منفی نتائج مرتب ہوتے ہیں۔’

مزید تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مدافعتی نظام جامد نہیں ہے اور سماجی درجے میں ترقی یا تنزلی سے اسے بہتر یا بدتر بنایا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے سر مائیکل مارموٹ صحت کی عدم مساوات کے موضوع پر چوٹی کے ماہرین میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ تحقیق ‘انتہائی دلچسپ’ ہے اور اس سے ان کی اپنی تحقیق پر روشنی پڑتی ہے۔

سائنس بتا رہی ہے کہ سماجی رتبے میں آپ کے مقام کے واضح حیاتیاتی فرق مرتب ہوتے ہیں۔ ذہن وہ دروازہ ہے جس کے ذریعے سماجی ماحول آپ کی صحت پر اثر ڈالتا ہے۔ چاہے وہ مضرِ صحت رویہ ہو یا پھر تناؤ کی کیفیت، ذہن بےحد اہم ہے اور یہ تحقیق اس خیال کو تقویت بخشتی ہے۔’

ریسس بندروں کا سماجی نظام انسانوں کی نسبت خاصا سادہ ہے، لیکن یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر گریم روک کہتے ہیں کہ ‘تمام شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نتائج انسانوں پر بہت عمدگی سے لاگو ہوتے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘حکومتیں اس بات کو نہیں سمجھتیں۔ ان کا خیال ہے کہ نچلے طبقوں والے لوگوں کے پاس کاریں ہیں، ٹی وی ہیں، اس لیے وہ انڈیا کے لوگوں کے مقابلے پر بےحد امیر ہیں۔

لیکن اصل بات یہ نہیں ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ سب سے نیچے ہیں۔’

درجہ بندی کسی بھی معاشرے کا حصہ ہوتی ہے۔ لیکن سائنس دان کہتے ہیں کہ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی صحت کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سنائڈر کہتے ہیں: ‘یہ ایک مشکل مسئلہ ہے جو شاید کبھی حل نہ ہو۔ لیکن کوشش کی جا سکتی ہے کہ اسے مزید بگڑنے سے بچایا جائے۔’

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close