More share buttons
Share with your friends










Submit
اسلام آبادتجارت

پٹرولیم لیوی 30 روپے سے بڑھا کر50 روپے کرنے کی منظوری

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آر او این95 پرعائد پٹرولیم لیوی30 روپے سے بڑھا کر50 روپے کرنے کی منظوری دیدی ہے۔

ای سی سی نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پریمئم کی مشروط اجازت بھی دیدی ہے،وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایچ او بی سی پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی سمری پیش کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ یکم فروری 2022 سے پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی شرح صفر کر دی گئی تھی جس سے ایف بی آر کے ٹیکس وصولیوں کے اہداف کے حصول کی کوششوں پر دباوٴ پڑا ہے۔

اجلاس میں تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد ای سی سی نے آر او این95 پر پٹرولیم لیوی30 روپے سے بڑھا کر50 روپے کرنے کی منظوری دیدی ہے جسکا اطلاق سولہ نومبر 2022 سے ہوگا۔

اجلاس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پریمئم کی مشروط اجازت دیدی ہے۔

نومبر اور دسمبر 2022 کے مہینوں کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو درآمد کرنے کے لیے پندرہ ڈالر بی بی ایل کی زیادہ سے زیادہ قیمت کی حد مقرر کرنے کے ساتھ پریمیم کی اجازت ہ ہوگی۔

ای سی سی نے ساتویں مردم شماری کیلئے پانچ ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دیدی ہے۔

اس سے قبل وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر فی الحال لیوی بڑھانے پر غور کر رہے ہیں،ہمارے گیس ذخائر آہستہ آہستہ ختم ہو رہے ہیں،سوئی ناردرن کو 680 ایم ایم سی ایف ڈی گیس سپلائی دی جا رہی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ موسم سرما گھریلو صارفین کی طلب 950 سے 1350 ایم ایم سی ایف ڈی یے،گھریلو صارفین کو گیس فراہمی پہلی ترجیح ہے،گیس فراہمی چیک کرنے کیلئے محلے کی سطح پر میٹر لگوا رہے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ سوئی گیس والوں کو خریدی گئی گیس کا حساب دینا ہو گا،بغیر میٹر گیس فراہمی کو روکا جائے گا،سوئی ناردرن میں گیس چوری 8 فیصد ہے۔

سوئی کمپنیوں کو گیس فراہمی کا منافع نقصان مکمل طور پر دینا ہو گا،آئندہ چھ ماہ میں گیس میٹر ہر ٹاؤن مانیٹرنگ سسٹم پر لگا دیا جائے گا،روٹی والے تندوروں کو مقامی گیس فراہم کی جائے گی،امیر علاقوں کی گیس بند کر کے ایل پی جی دیں گے۔

مصدق ملک نے کہا کہ روس سمیت تمام ممالک کو انرجی کے حوالے سے خط لکھے ہیں، جواب آنے پر پیش رفت ہو گی،ترکمانستان کے پاس چوتھے بڑے ذخائر ہیں،ترکمانستان سے 1.4 ارب مکعب فٹ گیس لیں گے۔

پابندی کے رسک کی بجائے ملک کا رسک لیں گے اورایران کی بجائے افغانستان کا رسک لیں گے،ایران سے گیس خریداری پر پابندیاں لگیں گی،ترکمانستان سے گیس پائپ لائن کو صرف افغانستان میں سیکورٹی کا رسک ہے،ہم تاپی گیس پائپ لائن بچھانے میں مخلص ہیں۔

وزیر اعظم کو روزانہ گیس لوڈ مینجمنٹ پلان پر بریفنگ دیتے ہیں،آپٹما والوں کو بتایا ہے کہ گیس نہیں ہے اس لیئے انہیں کہا ہے کہ مل کر پلان بنا لیں،اپٹما اب سوئی ناردرن کے ساتھ مل کر اپنا پلان ترتیب دے رہی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کراچی چیمبر والوں کے تمام تحفظات دور کریں گے،ڈی جی پی سی کے طریقہ کار کو شفاف اور آن لائن کر دیا جائے گا۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close