تجارت

سرمایہ کاروں کے لیے رہائشی ویزے، پاکستانیوں کے لیے نہیں

حکومت کی جانب سے یہ بیرون ممالک کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔

اس کے لیے سرمایہ کار کو 18 ماہ کے درمیان ملک کی معیشت میں کم سے کم 15 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کرنی ہوگی یا پھر تین برسوں میں تقریباً 37 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہو۔

اس کے لیے یہ شرط بھی ضروری ہے کہ سرمایہ کار ایک مالیاتی سال میں کم از کم 20 انڈین شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی فراہم کرے۔

اس کے بدلے میں انھیں 10 برس کا ویزا فراہم کیا جائے گا، میاں بیوی اور بچوں کو ملک میں رہنے اور مکان خریدنے کی بھی اجازت ہوگی۔

ایسے غیر ملکیوں کو ہر برس اپنے آپ کو تمام دستاویزات کے ساتھ رجسٹر کرانا ہوگا جس کے لیے عموماً ایک سپانسر کی بھی ضرورت پڑے گی۔

لیکن اطلاعات کے مطابق اس سکیم میں چین اور پاکستانی شہریوں کو شامل نہیں کیا جائے گا۔

تجارت کے لیے آسان ماحول کے تعلق سے درجہ بندی کرنے والے ادارے ورلڈ بینک کے مطابق اس انڈیکس میں عالمی سطح پر انڈیا کا نمبر 130 واں ہے۔

انڈیا دنیا کی تیز رفتار ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن بھارت میں نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ بے روزگار ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے ہر برس اسے تقریباً 10 لاکھ نوکریاں مہیا کرنا ہوں گے۔

اسی برس مودی کی حکومت نے بیرونی ممالک کے افراد کی ملکیت کے تعلق سے قانون کا ازِ سر نو جائزہ لیا تھا اور اس کا بھی مقصد بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا۔

اس قانون کے تحت اب انڈیا میں نجی ایئر لائنز اور دفاع سے متعلق کمپنیاں سو فیصد تک مالک بن سکتی ہیں۔

ریٹیل سیکٹر کی بھی بیرونی کمنیوں کے لیے بعض قوانین میں نرمی کر دی گئی جس سے اب وہ بھارت میں اسانی سے کم کر سکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close