More share buttons
Share with your friends










Submit
انٹرٹینمنٹ

قابل اعتراض فلم انڈسٹری میں لڑکیاں مجبوری کے تحت آتی ہیں

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

فحش فلموں میں کام کرنے لڑکیاں مجبوری کے تحت آتی ہیں

میا خلیفہ کا کہنا ہے کہ فحش انڈسٹری لڑکیوں کی مجبوری اور ان کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے فلمیں بنانے والے ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

لبنانی نژاد امریکی اسٹار میا خلیفہ نے اپنے ماضی پر کھل کر بات کی اور اعتراف کیا کہ وہ مجبوری کے تحت فحش فلموں میں گئیں اور اب تک انہیں اپنے ماضی پر شرمندگی ہے۔ کیتھولک مسیحی خاندان میں پیدا ہونے والی میا خلیفہ کم عمری میں اہل خانہ سمیت امریکا منتقل ہوگئی تھیں، جہاں انہوں نے 2014 کے اختتام اور 2015 کے آغاز کے دوران چند ماہ تک فحش فلموں میں کام کیا۔

چند ماہ تک پورن انڈسٹری میں کام کرنے والی میا خلیفہ انتہائی کم وقت میں دنیا بھر میں اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مشہور ہوگئی تھیں اور انہیں نمبر ون اداکارہ بھی قرار دیا گیا تھا۔ فحش فلموں میں کام کرنے کی وجہ سے انہیں شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے دھمکیاں بھی دی گئیں، جس کے بعد انہوں نے انڈسٹری کو خیرباد کہہ دیا۔

فحش فلم انڈسٹری چھوڑنے کے بعد میا خلیفہ نے بطور سوشل میڈیا اسٹار کام کا آغاز کیا اور انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مختلف برانڈز کی تشہیر کرنا شروع کی اور ساتھ ہی انہوں نے اسپورٹس اینکر کے طور پر بھی کام کرنا شروع کیا۔

میا خلیفہ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ انہوں نے فلموں میں کام کرنے سے محض 12 ہزار امریکی ڈالر یعنی پاکستانی لگ بھگ 15 لاکھ روپے کمائے۔اس تاثر کو مسترد کیا کہ فحش فلموں میں کام کرنے والی اداکاراؤں کو کثیر رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

میا خلیفہ کے مطابق اس انڈسٹری میں زیادہ تر لڑکیاں مجبوری کے تحت آتی ہیں اور چوں کہ وہ مجبور ہوتی ہیں، اس لیے اس انڈسٹری میں کام کرنے والے افراد انہیں بلیک میل کرتے ہیں اور ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پورن فلم انڈسٹری کے بھیانک چہرے کو سامنے لاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس انڈسٹری میں کام کے لیے آنے والی کم عمر لڑکیوں کا استحصال کیا جاتا ہے، انہیں اپنا حق نہیں دیا جاتا، انہیں بلیک میل کرکے انہیں دبایا جاتا ہے۔

میا خلیفہ نے طویل انٹرویو میں فحش فلموں میں کام کے دوران ملنے والی دھمکیوں اور انڈسٹری کو چھوڑنے کے بعد پیش آنے والی مشکلات پر بھی بات کی اور کہا کہ اب تک انہیں اچھی ملازمت نہیں مل سکی اور انہیں آگے بڑھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں فلم انڈسٹری چھوڑے ہوئے بھی 4 سال گزر چکے ہیں لیکن اب بھی لوگ انہیں ان کے ماضی کی وجہ سے تنگ کرتے ہیں تاہم لوگوں کے ایسے رد عمل کا ان پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

میا خلیفہ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کے نام سے بہت ساری ویب سائٹس اور اکاؤنٹس چلا رہے ہیں اور وہ پیسے بٹور رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے نام سے چلنے والی ویب سائٹس اور اکاؤنٹس سے ان کا کوئی تعلق نہیں وہ سب جعلی ہیں اور ان کی شہرت کا فائدہ اٹھا کر پیسے کمائے جا رہے ہی

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button