More share buttons
Share with your friends










Submit
انٹرٹینمنٹ

پہلی فلم کے ہدایت کار نے مجھے جنسی ہراساں کیا

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

 ہولی وڈ : فرانسیسی اداکارہ اڈیل ہینیل کا ہدایت کار پر جنسی ہراسانی کا الزام

اداکارہ اڈیل ہینیل نے کہا کہ 12سال کی عمر میں ہدایت کار نے مجھے جنسی طور پر ہراساں کیا

فرانس کی کامیاب اداکارہ اڈیل ہینیل نے می ٹو مہم کا حصہ بنتے ہوئے نامور ہدایت کار کرسٹوف روجیا پر نوجوانی میں جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے پوری فرانس کی فلمی دنیا کو حیران کردیا۔

اڈیل ہینیل نے میڈیا پارٹ نیوز کو ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ان کی پہلی فلم کے ہدایت کار نے انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

اڈیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ سب بتانے کا فیصلہ اس وقت کیا جب حال ہی میں انہوں نے ‘لیونگ نیورلینڈ’ نامی ڈاکیومنٹری دیکھی جو مشہور زمانہ پاپ اسٹار مائیکل جیکسن کی زندگی اور ان کے بچوں سے ان کے تعلق پر مبنی تھی۔اس فلم کو دیکھنے کے بعد میری سوچ تبدیل ہوگئی

اسے دیکھ کر مجھے ہدایت کار کرسٹوف روجیا اور اپنی ایسی ہی ایک فلم کی یاد آگئی۔30 سالہ اڈیل کو کرسٹوف روجیا نے 12 سال کی عمر میں اپنی فلم ‘دی ڈیولز’ میں کاسٹ کیا تھا، جس میں انہوں نے ایک ایسی یتیم بچی کا کردار نبھایا جو اپنے بھائی کے ساتھ مل کر اپنے والدین کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہے۔

کرسٹوف روجیا اور اڈیل نے اکٹھے اس فلم کی تشہیر بھی کی جبکہ بعدازاں کرسٹوف نے اڈیل کو اپنے گھر مدعو بھی کیا۔

اڈیل کا مزید کہنا تھا کہ یہ وہی دن تھا جب کرسٹوف نے پہلی مرتبہ مجھے ہاتھ لگایا اور مجھے بوسہ دینے کی کوشش کی، اس وقت میں 12 سال کی تھی، میں نے کرسٹوف سے ہر رابطہ ختم کرنے کی کوشش کی اور لوگوں سے مدد بھی مانگی لیکن چند نے ہی میرا ساتھ دیا۔

میڈیا پارٹ کی جانب سے کی گئی تفتیش کے بعد تقریباً 30 گواہان نے بتایا کہ کرسٹوف روجیا کو اس نوجوان اداکارہ کے ساتھ رہنے کا جنون ہوگیا تھا، سیٹ پر موجود دیگر اداکار اور تکنیکی ماہرین بھی اس ماحول سے پریشان تھے۔

اداکارہ کی جانب سے ہدایت کار پر لگائے گئے ان الزامات کے بعد انہیں فرانس فلم سوسائٹی میں دیے گئے متعدد عہدوں سے برطرف کردیا گیا۔

تاہم اداکارہ نے عدالت میں شکایت درج کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فرانس کی عدالتوں پر یقین نہیں۔

البتہ اڈیل کے ان الزامات کے بعد پبلک پراسیکیوٹر نے اس معاملے کی کاروائی کا آغاز کردیا۔

کرسٹوف روجیا نے تمام الزامات بے بنیاد ٹھہرادیے تاہم انہوں نے یہ بات ضرور قبول کی کہ شاید انہوں نے اڈیل کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ہوگا۔ ہدایت کار کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کے میں نے کچھ غلط کیا، ہاں اگر میرے کسی رویے سے نوجوانی میں انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہو تو میں اس سے معافی مانگتا ہوں۔

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close