Featuredسندھ

فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کے ساتھ علامہ اقبال کا رشتہ

تا مرگ شاعرِ مشرق علامہ اقبال  کی فلسطین اور امتِ مسلمہ کے لیے تڑپ جاری و ساری رہی۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ بلاشبہ مستقبل کے شاعر، مفکر اور فلاسفر تھے، آج بھی ان کا کہا ہوا فرمان سچ ثابت ہوتا ہے۔

علامہ اقبال بہت پہلے ہی جانتے تھے کہ امریکا اور برطانیہ کی رگِ جاں یہودیوں کے پنجے میں ہے۔

انہوں نے 1919ء میں موچی دروازہ لاہور میں ایک ریلی سے خطاب کیا اور قرارداد منظور کرائی کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ کے مسلم علاقوں کے تحفظ کا وعدہ پورا کرے۔

انہوں نے فلسطین کے بارے میں اپنی ایک نظم میں لکھا کہ:

ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق

ہسپانیّہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا

ایک اور نظم میں لکھا کہ:

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ

میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے

تری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں

فرنگ کی رگ جاں پنجۂ یہود میں ہے

سُنا ہے مَیں نے، غلامی سے اُمتوّں کی نجات

خودی کی پرورش و لذتِ نمود میں ہے!

1931ء شاعر مشرق علامہ اقبال کی زندگی کا اہم سال تھا، اس سال 14 اگست کے دن انہوں نے لاہور کے ایک جلسے میں کشمیر کی تحریکِ آزادی کا اعلان کیا اور اسی سال 6 دسمبر کو جب وہ لندن میں ہونے والی گول میز کانفرنس میں آل انڈیا مسلم لیگ کی نمائندگی کر رہے تھے تو انہیں فلسطین عالمی کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی اور علامہ اقبالؒ مؤتمرِ اسلامی کی طرف سے فلسطین پر عالمی کانفرنس میں شرکت کے لیے یروشلم پہنچ گئے۔

علامہ اقبالؒ بیت المقدس کے قریب واقع ہوٹل فندق مرقص میں ٹھہرے۔

6 دسمبر 1931ء کی شام بیت المقدس سے متصل روفتہ المصارف میں مؤتمر اسلامی کا تعارفی اجلاس ہوا جس کے بعد علامہ اقبالؒ مسجدِ اقصیٰ میں آئے۔

پہلے انہوں نے مولانا محمد علی جوہرؒ کی قبر پر فاتحہ پڑھی پھر مسجدِ اقصیٰ میں نمازِ مغرب ادا کی۔

انہوں نے یہیں پر تلاوت اور نعت خوانی کی ایک محفل میں شرکت کی، نمازِ عشاء بھی یہیں ادا کی اور آخر میں علامہ اقبال ؒنے سب شرکاء کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر عہد کیا کہ وہ مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں بھی قربان کر دیں گے۔

علامہ اقبالؒ 7 دن تک مؤتمرِ اسلامی کے اجلاسوں میں شریک رہے اور روزانہ مسجدِ اقصیٰ میں آ کر نماز ادا کرتے تھے۔

یہاں کئی مرتبہ انہوں نے فاتح اندلس طارق بن زیاد سے متعلق اپنے فارسی اشعار سنائے جن کا عربی ترجمہ ایک عراقی عالمِ دین کرتے تھے۔

علامہ اقبالؒ قاہرہ کے راستے سے واپس ہندوستان آ گئے لیکن فلسطین اور مسجدِ اقصیٰ کے ساتھ ان کا رشتہ تادمِ مرگ قائم رہا۔

1937ء میں علامہ اقبال شدید بیمار تھے مگر بیماری کے باوجود ان کی فلسطین اور امتِ مسلمہ کے لیے تڑپ جاری و ساری رہی۔

7 اکتوبر 1937ء کو قائدِ اعظم محمد علی جناح کے نام اپنے خط میں انہوں نے مسئلہ فلسطین پر اپنے اضطراب کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ آل انڈیا مسلم لیگ فلسطین پر صرف قراردادیں منظور نہیں کرے گی بلکہ کچھ ایسا کرے گی کہ فلسطینی عربوں کو فائدہ بھی ہو۔

قائداعظم ؒ نے ناصرف فلسطینیوں کے لیے فنڈ قائم کیا بلکہ 3 دسمبر 1937ء کو پورے ہندوستان میں یومِ فلسطین منایا۔

یہی وجہ تھی کہ 1948ء میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close