More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredدنیا

وزیر اعظم سانا مارین کی تصاویر کے بعد فن لینڈ میں نئی بحث چھڑ گئی

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

 فن لینڈ: سانا مارین دسمبر 2019 میں محض 34 برس کی عمر میں وزیر اعظم بننے کے بعد دنیا کی نوجوان ترین وزیر اعظم بنی تھیں

یورپی ملک فن لینڈ کی وزیر اعظم 34 سالہ سانا مارین کی جانب سے حال ہی میں معروف فیشن میگزین کے لیے کرائے گئے قدرے بولڈ فوٹو شوٹ پر وہاں ’جنسیت‘ پر نئی بحث چھڑ گئی۔

محض 34 برس کی عمر میں وزیر اعظم بننے کے بعد دنیا کی نوجوان ترین وزیر اعظم بنی تھیں اور گزشتہ ایک سال سے انہوں نے ملک میں کئی تبدیلیاں بھی متعارف کرائیں۔

سانا مارین جہاں دنیا کی کم عمر ترین وزیر اعظم بنی تھیں، وہیں وہ اب تک فن لینڈ کی تیسری خاتون وزیر اعظم بھی ہیں۔

سانا مارین نے اقتدار میں آنے کے بعد فن لینڈ میں صنفی مساوات اور خواتین کو زیادہ سے زیادہ مواقع دینے کے منصوبوں پر بھی کام شروع کیا، جس وجہ سے ان کی تعریفیں بھی کی جاتی رہی ہیں۔

تاہم حال ہی میں ان کی جانب سے فن لینڈ کے معروف فیشن میگزین ’ للی ٹرینڈی‘ کے لیے کرائے گئے فوٹو شوٹ پر وہاں ایک نئی بحث چھڑ گئی اور وہاں کے مرد و خواتین ’جنسیت‘ پر بحث کرنے لگ گئے۔

سی این این کے مطابق ٹرینڈی میگزین نے اکتوبر 2020 کے شمارے میں سانا مارین کو سرورق کی زینت بنایا اور میگزین نے ان کا انٹرویو بھی شائع کیا۔

تاہم مذکورہ انٹرویو کے لیے وزیر اعظم سانا مارین کی جانب سے کھچوائی گئی تصاویر کے بعد فن لینڈ میں ’جنسیت‘ پر نئی بحث چھڑ گئی اور کئی افراد نے وزیر اعظم کو بولڈ فوٹو شوٹ کروانے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹرینڈی میگزین نے اگرچہ سرورق پر وزیر اعظم کی عام تصویر شائع کی تاہم میگزین میں شائع ان کے انٹرویو میں بعض تصاویر انتہائی بولڈ ہیں، جن میں وزیر اعظم کی چھاتی کے کچھ حصوں کو نمایاں پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ٹرینڈی میگزین نے سانا مارین کی ایک بولڈ تصویر انسٹاگرام پر بھی شیئر کی، جس کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر بھی ’جنسیت‘ کے معاملے پر بحث کرتے ہوئے وزیر اعظم کی تصاویر کو عریاں اور فحش قرار دیا۔

 

View this post on Instagram

 

Antakaa palaa 🔥🔥🔥 #imwithsanna #trendimag⠀ ⠀ Me Trendissä olemme seuranneet kuvianne ja lukeneet viestejänne ja kommenttejanne ilosta ymmyrkäisinä, ylpeydestä halkeilleina ja älyttömän voimaantuneina – kiitos 🖤. Päätoimittaja Mari Karsikkaan sanoin:⠀ ⠀ "Pian Trendin ilmestymisen ja kohun alkamisen jälkeen naiset alkoivat jakaa rintavaon paljastavia kuvia #imwithsanna-tunnisteella somessa. En ole varma, kuka ehti ensin, mutta ei ainakaan Trendi. Someilmiön synnyttivät yksittäiset naiset, joille Sanna Marinin parjaus riitti. Olen heille hyvin kiitollinen.”⠀ ⠀ 👉🏼 Lue biossa olevan linkin kautta päätoimittajan koko kirjoitus siitä, mitä #imwithsanna-kohu on opettanut.

A post shared by Trendi & Lily (@trendimag) on

میگزین کی خاتون ایڈیٹر نے سی این این کو وزیر اعظم کی تصاویر کے بعد شروع ہونے والی ’جنسیت‘ کی بحث کے حوالے سے بتایا کہ زیادہ تر مرد حضرات نے سانا مارین کی تصاویر کو فحش اور عریاں قرار دیا جب کہ خواتین نے ان کی تعریف کرتے ہوئے انہیں خوبصورت قرار دیا۔

سانا مارین کی بولڈ تصاویر پر اعتراض کرنے والے زیادہ تر افراد کا کہنا تھا کہ اگر ایک وزیر اعظم ہی ایسی تصاویر کھچوا کر ان کی تشہیر کریں گی تو اس کے اثرات عام عوام پر کیا پڑیں گے؟

سانا مارین کی تصاویر پر تنقید کرنے والوں نے ان کی چند تصاویر کو فحش اور عریاں قرار دیا۔

زیادہ تر خواتین نے سانا مارین کی تصاویر کے انداز میں اپنی تصاویر شیئر کرکے وزیر اعظم کو پیغام دیا کہ خواتین ان کے ساتھ ہیں اور ان کی تصاویر میں کوئی عریانیت نہیں ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close