اسلام آباد

سینیٹ کمیٹی میں امریکی فیصلے کے خلاف متفقہ قرارداد منظور

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بیت القدس (یروشلم) میں سفارتخانہ قائم کرنے کے اعلان کے خلاف قرارداد منظور کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا اپنا فیصلہ واپس لے کیونکہ یہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں پوری انسانیت کا ہے۔

سینیٹر حمد اللہ کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں امریکی صدر کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکی فیصلے کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔

بعد ازاں کمیٹی کے اجلاس میں حج ٹور آپریٹرز کی انرولمنٹ پر وزارت مذہبی امورکے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام ایچ جی اوز کی جانچ پڑتال کے لیے ایک آڈٹ فرم کو ہائر کیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے وزارت مذہبی امور کے حکام پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہم جو کہتے ہیں وہ آپ نہیں کررہے، ایک سیکریٹری ایک بات تو دوسرا سیکریٹری کچھ اور بات کرتا ہے جبکہ وزیر اعظم نے جو حج پالیسی کمیٹی بنائی تھی، معلوم ہوا ہے کہ وہ بااختیار نہیں۔

کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں حج پالیسی کی تفصیلات طلب کر لیں۔

حج درخواست گزاروں سے جعل سازی میں ملوث ٹور آپریٹرز پر بریفنگ کے دوران وزارت مذہبی امور کے حکام نے بتایا کہ ہاشمی ٹریول نے 4 کروڑ 75 لاکھ کی جعل سازی کی، جس میں سے کمپنی نے 85 لاکھ روپے متاثرین کے نمائندوں کو ادا کردیئے اور اب اس کمپنی نے باقی پیسے دینے سے انکار کردیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس کمپنی کو ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور دیگر دو کمپنیوں بسمہ اور المصباح کو 2 سال کے لیے بلیک لسٹ کردیا ہے۔

کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ تینوں کمپنیاں اگر مجرم ہیں تو ان تمام کو بلیک لسٹ کیوں نہیں کیا گیا بعد ازاں کمیٹی نے سفارش کی کہ وزرات مذہبی امور متاثرین کو بلا کر ادائیگی کرے۔

حافظ حمد اللہ کا چیئرمین سینیٹ کو خط

اس سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین حافظ حمد اللہ نے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی انسانی حقوق میں توہین مذہب اور سزا کے قانون میں ترمیم زیر بحث ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ فنگشنل کمیٹی کو توہین مذہب کے قانون میں تبدیلی سے روکیں کیونکہ توہین مذہب قانون میں تبدیلی ہوئی تو اسلام اور ایمان کی اساس متاثر ہوگی۔

حمد اللہ کا کہنا تھا کہ توہین مذہب سے متعلق قانون میں تبدیلی 21 کروڑ عوام برداشت نہیں کریں گے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ توہین مذہب قانون میں تبدیلی پر غور اس کے غلط استعمال کا بہانا کرکے کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی جنیوا کنونش کا توہین مذہب کا مطالبہ تسلیم نہ کیا جائے کیونکہ توہین مذہب قانون میں ترامیم ہمارا نہیں بیرونی قوتوں کا ایجنڈا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بہانے توہین مذہب قانون میں ردوبدل نہ کی جائیں اور توہین مذہب قانون کے غلط استعمال روکنے سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی لی جائے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں توہین مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور گذشتہ ماہ آئین میں ختم نبوت کے قانون میں مبینہ ترمیم اور اس فیصلے کو واپس لینے سے متعلق معاملے میں ملک کے مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف احتجاج اور دھرنے دیئے گئے تھے جبکہ فوج کی مداخلت اور مظاہرین کے مطالبات تسلیم کیے جانے پر احتجاج اور دھرنوں کا مذکورہ سلسلہ اختتام پذیر ہوا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close