پنجاب

انتخابات کا بروقت انعقاد خطرے میں، کاغذات نامزدگی ہائیکورٹ میں مسترد

ہائی کورٹ نے عام انتخابات کے لئے ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے تیار کردہ کاغذات نامزدگی کو کالعدم قراردے دیا ہے۔ عام انتخابات کے بروقت انعقاد کو مزید ایک خطرہ لاحق ہوگیا ہے اور لاہور ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذاتِ نامزدگی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے آئینی ماہر سعد رسول کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ سعد رسول نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ 60، 110 اور 137 کو چیلنج کیا تھا۔کاغذات نامزدگی میں غیر ملکی آمدن، زیرِ کفالت افراد کی تفصیلات چھپانے کا اقدام، مقدمات کا ریکارڈ، ٹیکس ڈیفالٹ چھپانے کا اقدام، قرضہ نادہندگی، دہری شہریت، یوٹیلٹی ڈیفالٹ، پاسپورٹس چھپانے کا اقدام اور کاغذات نامزدگی میں مجرمانہ سرگرمیاں چھپانے کا اقدام بھی کالعدم کردیا گیا ہے۔عدالت نے پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذات نامزدگی آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ نئے کاغذات نامزدگی میں آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تقاضے دوبارہ شامل کئے جائیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close