سندھ

کراچی میں گرمی کی لہر سے بچاؤ کیلیے لاکھوں درخت لگانے کا اعلان

ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی روشن علی شیخ نے کہا ہے کہ شدید گرمی کی لہر سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومت سنجیدہ کوشش کررہی ہے،شہر میں لاکھوں درخت لگائے جارہے ہیں، دھابیجی میں 3 ہزار ایکڑ پر لینڈ فل سائٹ تعمیر کی جارہی ہے جس میں ڈھائی ہزار ایکڑ پر درخت اور جنگلات ہونگے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کو پی ایم اے ہاؤس میں فروزاں اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے اشتراک سے پانی کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار سے خطاب میں کیا ، سیمینار سے ڈاکٹر وقار، ڈاکٹر قیصر سجاد اور سماجی رہنماؤں نے خطاب کیا، جامعہ کراچی کے ڈاکٹر وقار نے کہا کہ گزشتہ سال15 جون کو کراچی میں گرمی کی لہر کے دوران 8 ہزار افراد ہلاک ہوئے ، مینگروز کے جنگلات گرم ہواؤں کو روکتے ہیں،گرین بیلٹ اور عمارتوں کے درمیان فاصلے کی ضرورت ہے تاکہ تازہ ہوا کا گزر ہوسکے۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ گرین بیلٹ اور عمارتوں کے درمیان فاصلے کی ضرورت ہے تاکہ تازہ ہوا کا گزر ہوسکے، ہمیں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہونگے جو ہمارے ماحول کو بہتر کرسکیں اور ٹھنڈی ہوا کا ذریعہ بنیں، نیم بہترین کام کرسکتا ہے شہریوں کو اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا شہری گھروں کے سامنے گلی میں نیم کے درخت لگائیں، نیم کے درخت مچھروں اور مکھیوں کو بھی دور بھگاتے ہیں۔

ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ روشن علی شیخ نے کہا کہ لائنز ایریا پروجیکٹ کا مکمل آڈٹ کرایا جائے گا اس کیلیے مشیر مالیات محمد ریحان خان کی سربراہی میں5رکنی کمیٹی قائم کی ہے جس میں لینڈ،کے ڈی اے فنانس، کے ایم سی فنانس کے افسران شامل ہوں گے،کمیٹی پانچ روز میں اپنی مکمل رپورٹ پیش کرے گی۔

اس بات کا فیصلہ منگل کو سوک سینٹر کے کمیٹی روم میں ریکوری کے محکموں کے اجلاس میں کیا گیا، ایڈمنسٹریٹرکراچی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کو مالی طور پر مستحکم کرنے کے لیے تمام محکموں کو اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے انجام دینا ہونگیقانون میں بلدیہ عظمیٰ کی جو ذمے داریاں ہیں اور جو ٹیکسز بلدیہ عظمیٰ کے ہیں ان پر فوراً عمل درآمدکرایا جائے،ایڈمنسٹریٹر کراچی نے ایک بار پھر متنبہ کیا کہ جو افسران کارکردگی بہتر نہیں کریں گے ان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

انھوں نے میونسپل یوٹیلیٹی ٹیکس چارجز ڈپارٹمنٹ،فوڈ اینڈکوالٹی کنٹرول اورویٹرنری ڈپارٹمنٹ کو زیادہ متحرک کرنے کی ضرورت پر زور دیا،انھوں نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کے پاس سے پہلے ہی تین محکمے ضلعی میونسپل کارپوریشنز کو منتقل ہوچکے ہیں، اب ہمارے پاس جو ذرائع موجود ہیں ان کو بہتر سے بہتر طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے ،ان کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close