سندھ

انتخابات میں اگر پارٹی کے چار پانچ سربراہ ہونگے تو 2018ء کا الیکشن بھول جائیں، فاروق ستار

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا ہے کہ الیکشن کے بعد جو رابطہ کمیٹی بنی ہے، اس میں ایک سربراہ ایک پالیسی ہے، بہادر آباد میں ایک سربراہ نہیں بلکہ چار پانچ سربراہ ہیں، اتنے زیادہ سربراہوں میں کام کرنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سربراہ عامر خان ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر الیکشن کمیشن نے فاروق ستار کے حق میں فیصلہ دیا تو عدالت میں جائیں گے، دوسرے سربراہ خالد مقبول صدیقی ہیں جنہوں نے کہا کہ فاروق ستار کے خلاف عدالت میں نہیں جائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ جہاں خالد مقبول صدیقی کی بات نہیں چل رہی، میری نہیں چل رہی تو پھر وہاں چل کس کی رہی ہے؟ یا تو فروغ نسیم کی یا پھر عامر خان کی بات چل رہی ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ اگر 2018ء کے انتخابات میں ایک سربراہ ہوا تو ہم عزت کے ساتھ آگے بڑھیں گے، لیکن اگر چار پانچ سربراہ ہونگے تو 2018ء کا الیکشن بھول جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی عزت پیاری ہے، اگر پارٹی چار پانچ سربراہ ہوتے ہوئے الیکشن ہاری تو ملبہ مجھ اکیلے پر ہی گرے گا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close