دنیا

چھوٹی سی مسکراہٹ میں یا خاموشی سے سر ہلانے میں۔

چار سال قبل میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ وہ کراچی کے یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز میں اکثر جاتا رہتا ہے۔

یہ سن کر میں نے اس سے اگلی دفعہ مجھے ساتھ لے جانے کی درخواست کی۔

اس وقت مجھے اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔ میرے پہلے دورے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ میں وہاں سے فوراً نکل گیا کیونکہ وہاں پر اپنے جذبات پر قابو رکھنا بہت مشکل تھا۔

ایسے کمرے میں قدم رکھنے کا تصور کریں جہاں شہر کے تنہا ترین لوگ بستے ہیں۔

یہاں کے رہائشیوں کے چہرے مرجھائے ہوئے اور کھوکھلے لگتے ہیں، جن پر ان کے ماضی کی یادیں نظر آتی ہیں، کچھ خوشگوار، تو کچھ ذرا بھی خوشگوار نہیں۔

یہ لوگ کسی زمانے میں کیسے ہوا کرتے تھے، اب اس کی صرف جھلکیاں نظر آتی ہیں، ایک چھوٹی سی مسکراہٹ میں یا خاموشی سے سر ہلانے میں۔

ان گھروں میں ان کی تنہائی اس قدر گہری ہے کہ انہیں دیکھ کر دل ٹوٹ جاتا ہے۔ ہر ملاقات نے مجھے جذباتی طور پر بوجھل کر دیا؛ جب میں ان گھروں سے نکلتا، تو ان کی تنہائی کا بوجھ مجھے کھڑا نہ ہونے دیتا۔

کیا میں کبھی اتنا دلیر ہو سکتا ہوں کہ اپنے کسی پیارے کو یہاں چھوڑ جاؤں؟ کیا میرا کوئی پیارا مجھے یہاں چھوڑ کر جائے گا؟ اگر آپ اور میں یہاں نہیں رہنا چاہیں گے، تو یہ کون لوگ ہیں اور یہاں کیوں رہتے ہیں؟

ان کی مشکلات اور ان کی ہمت نے مجھے ایک فوٹو سیریز کرنے پر مجبور کیا جس کے لیے میں تین سال کے دوران کراچی کے کئی اولڈ ہومز گیا۔مجھے یہ اعزاز ہے کہ میں نے ان اولڈ ہومز میں کئی لوگوں سے دوستی کی، جن میں سے کچھ نے میرے ساتھ اس زندگی سے بھرپور شہر میں گزاری گئی اپنی زندگی کی زبردست کہانیاں سنائیں۔

تین سالوں میں میری تمام عیدیں، کرسمس اور نیو ایئر ان دھتکارے ہوئے لوگوں کے ساتھ گزرے، جو ہر سال صرف ایک چیز کی امید کرتے کہ بس ان کے بچے یہ خصوصی موقعے ان کے ساتھ گزارنے کے لیے لوٹ آئیں، مگر زیادہ تر واپس نہیں آتے تھے۔

ایسے ہی ایک دن میں نے دیکھا کہ مورس گلی میں کھڑے اسکول سے واپس جاتے بچوں میں وہ عیدی تقسیم کر رہے ہیں جو انہیں اولڈ ہوم کی انتظامیہ نے دی تھی۔ یہ سادہ سا اقدام میرے ذہن میں نقش ہوگیا۔ دو ہفتوں بعد مورس میرے پاس آئے اور مجھ سے میرے کیمرے کے بارے میں پوچھا، تب مجھے معلوم ہوا کہ وہ پروفیشنل فوٹوگرافر رہ چکے ہیں۔

مسکراتے ہوئے انہوں نے کہا، “تب ہم لوگ ریل استعمال کرتے تھے، آپ کو ان کے بارے میں معلوم ہے؟”

مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ مورس نے اپنا زیادہ تر کام ویو کیمرا سے کیا تھا جس میں فوٹوگرافر 

میرے چھٹے دورے تک مورس مجھے اپنے خاندان کے بارے میں بتانے لگے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ساری زندگی محنت کرتے رہے تاکہ اپنے دونوں بچوں کے لیے ایک ایک مکان خرید سکیں۔

مگر آج ان دونوں مکانوں میں باپ کے لیے ایک کمرہ بھی موجود نہیں۔ وہ مجھے اکثر اپنا معمولی سا سامان دکھاتے جس میں ایک ٹی شرٹ بھی شامل تھی جس پر لکھا تھا، “جب میں موت کی وادی سے گزروں گا، تو مجھے کوئی خوف نہیں ہوگا۔

پھر جب میں اس دن جانے کے لیے اٹھا، تو انہوں نے مجھے ایک خط تھماتے ہوئے التجا کی کہ، “میرے خاندان کو ڈھونڈنے کی کوشش کرنا، اور انہیں یہ خط دینا۔”

میں نے پوچھا، “ممورس، خط پر کوئی پتہ موجود نہیں ہے، میں اسے کہاں بھیجوں؟”

انہوں نے آہستگی سے کہا، “بس کوشش کرنا”۔

ایک اولڈ ہوم میں میری ملاقات نرم مزاج آغا صاحب سے بھی ہوئی۔ ہماری بات چیت خوشگوار ہوتی تھی اور میں اکثر بھول جاتا تھا کہ ہم اسی پرانے کمرے میں موجود ہیں جہاں بے تحاشہ بستر موجود تھے۔

آغا صاحب کو یادداشت کا عارضہ لاحق ہے، اور انہیں اولڈ ہوم سے اکیلے باہر نکلنے کی اجازت نہیں کیونکہ وہ ایک بار پہلے گم ہو چکے ہیں۔ اب وہ ان بوسیدہ دیواروں میں ہمیشہ کے لیے قید ہیں، مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ ان کے خیالات کتنے آزاد ہیں۔

ایک دورے کے دوران آغا صاحب نے مجھے کہا کہ، “تم جو بھی کرو، مگر مجھے خدا حافظ کبھی نہیں کہنا، کیونکہ جو لوگ خدا حافظ کہتے ہیں، وہ کبھی واپس نہیں آتے۔”

ان ملاقاتوں کے بعد میں اکثر تلخیوں سے بھر جایا کرتا۔ میں نے اپنے دوست سے ان جگہوں کی خستگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ شاید ہمیں یہ جگہیں بند کر دینی چاہیئں۔

میرے دوست نے مجھے کہا کہ، “یہ لوگ پھر کہاں جائیں گے؟ اگر تم ان کی کوئی بھی مدد کرنا چاہو، تو بس اتنا کرو کہ ان سے ملنے کے لیے جاتے رہا کرو۔”

ایک عرصہ ہوا کہ میری فوٹو سیریز ختم ہو چکی ہے، مگر میں اب بھی جاتا رہتا ہوں۔

میں خدا حافظ نہیں کہوں گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close