دنیا

امن سے پہلے امریکہ افغانستان پر ’قبضہ

افغان طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ نےایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ بقول ان کے افغانستان پر قبضہ ختم کر دے۔اپنے بی

ان میں مولوی ہبت اللہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان میں موجودگی ان کی جدوجہد کو کمزور نہیں کر سکے گی۔ انھوں نے کہا کہ طالبان اقتدار پر اجارہ داری نہیں چاہتے، لیکن مغرب کی حمایت یافتہ افغان حکومت کو اسلامی قانون کے مطابق امن کے

لیے مصالحت کے ابتدائی مرحلے کے طور پر مغرب سے لازماً تعلقات توڑنا پڑیں گے

جمعرات کو طالبان کے خودکش حملہ آوروں نے کابل کے قریب پولیس کیڈٹوں کے ایک کاروان پر حملہ کر کے 37 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں افغانستان میں طالبان تحریک نے ایک باضابطہ بیان میں اپنے امیر ملا محمد اختر منصور کی ایک امریکی ڈرون حملے میں موت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے نائب مولوي ہبت اللہ اخونزادہ کو نیا رہنما مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مولوی ہبت اللہ ملا اختر منصور کے نائب تھے اور طالبان کی شوریٰ نے بظاہر حقانی نیٹ ورک کے سراج الحق حقانی اور ملا عمر کے بیٹے پر انھیں ترجیح دی۔

خیال رہے کہ امریکی محکمۂ دفاع کے ایک سینیئر اہلکار نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ صدر اوباما افغان سکیورٹی فورسز کی طالبان مخالف کارروائیوں میں مدد کے لیے امریکی فوج کے دائرہ کار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

تاہم محکمۂ دفاع کے اہلکار کے مطابق افغانستان میں تعینات تقریباً دس ہزار امریکی فوجی براہ راست جنگی کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔

امریکہ نے افغانستان میں اپنا جنگی مشن 2014 کے اختتام پر ختم کر دیا تھا اور اس وقت ملک میں تعینات امریکی فوجی افغان مسلح افواج کی تربیت اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close