Featuredخیبر پختونخواہ

پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکا: دھماکے کے وقت مسجد میں نماز ظہر ادا کی جارہی تھی

پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے سے 28 افراد جاں بحق جب کہ 150 زخمی ہوگئے ہیں۔

دھماکے کے وقت مسجد میں نماز ظہر ادا کی جارہی تھی، دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے مسجد کا ایک حصہ شہید ہوگیا۔

دھماکے کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے، جنہیں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال لائے جانے والے افراد میں پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد ہے۔

ڈپٹی کمشنر پشاور نے واقعے میں اب تک 28 افراد کے جاں بحق جب کہ 150 کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

او نیگیٹیو خون کی اشد ضرورت
ڈپٹی کمشنر پشاور نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ زخمیوں کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے، دھماکے سے مسجدکی چھت گرگئی ہے، لیڈی ریڈنگ اسپتال میں او نیگیٹیو خون کی ضرورت ہے، اس گروپ کے حامل افراد سے اپیل ہے کہ وہ خون کے عطیات دیں۔

پشاوردھماکا کیسے کیا گیا؟ رانا ثنا اللہ نے بتادیا
سماء سے گفتگو کے دوران وزیر داخلہ راناثنا اللہ نے کہا کہ دھماکا پولیس لائن کی مسجد میں ہوا ہے، دھماکے کے واقت مسجد میں 300 کے قریب افراد نماز ادا کررہے تھے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ خودکش دھماکا بتایا جارہا ہے، اس میں 16 سے 17افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ 50 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، اس واقعے میں ہدف پولیس اہلکار تھے۔

سیاسی قیادت کی مذمت
ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی قیادت نے پشاور میں دہشتگردی کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

پولیس کو ضروری ساز و سامان سے لیس کریں
سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کےساتھ ہیں۔ دہشتگردی کےبڑھتےہوئےخطرے سےنمٹنےکیلئےلازم ہےکہ ہم اپنی انٹیلی جنس میں بہتری لائیں اور اپنی پولیس کو مناسب انداز میں ضروری ساز و سامان سے لیس کریں۔

پاکستان کیخلاف جنگ کرنےوالوں کو صفحہ ہستی سےمٹادیں گے
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کیخلاف جنگ کرنے والوں کوصفحہ ہستی سے مٹادیں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close