Featuredاسلام آباد

عدالت کا 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شیخ رشید کو رہا کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف زرداری پرعمران خان کے قتل کی مبینہ منصوبہ بندی کا الزام لگانے سے متعلق کیس میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آصف زرداری پرعمران خان کےقتل کی مبینہ منصوبہ بندی کا الزام لگانے سے متعلق کیس میں شیخ رشید کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ شیخ رشید نے بیان دیا کہ انہوں نے عمران خان سے یہ معلومات لیں ، شیخ رشید سے آصف زرداری کے خلاف عمران خان کے قتل کی مبینہ سازش کے شواہد نہیں ملے، شیخ رشید کی بیان کی تفصیلات پیمرا سے حاصل کی گئیں۔

ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون نے موقف اختیار کیا کہ جو حکومت میں ہیں وہ کل اپوزیشن میں ہوں گے، شیخ رشید نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور بلاول بھٹو زرداری کو ننگی گالیاں دیں، شیخ رشید ایک سینیئر سیاست دان ہیں، ان کی گفتگو پارلیمانی ہونی چاہیے ، اگر تو یہ جرم نہیں دہراتے اور بیان حلفی دیتے ہیں توعدالت دیکھ لے۔

ایک موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سب ایک ہی قسم کی گفتگو کرتے ہیں ، سب پارلیمانی ہے، ہمیں پرائمری اسکول کے نصاب سے ہی تربیت شروع کرنی پڑے گی۔

شیخ رشید احمد کے وکیل سلمان اکرم راجانے عدالت کے روبرو اپنے دلائل میں کہا کہ یہ کیس ہی نہیں ہے جو ایڈووکیٹ جنرل بیان کررہے ہیں، شواہد میں ایسا کچھ نہیں ہے کہ بیان سے پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی تصادم ہوا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعدشیخ رشید کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔ عدالت عالیہ نے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض شیخ رشید کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

شیخ رشید کی گرفتاری، کب کیا ہوا
شیخ رشیدنے آصف زرداری پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے ایک کالعدم تنظیم کو عمران خان کے قتل کے لے پیسے دیئے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما راجا عنایت نےشیخ رشید کے خلاف سابق صدر آصف علی زرداری پر عمران خان کے قتل کی سازش کا الزام لگانے پر شکایت درج کرائی تھی۔

شکایت گزار کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ پولیس نے آصف زرداری پر عمران خان کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق بیان پر مقدمہ درج کیا تھا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 120-بی، 153 اے اور 505 شامل کی گئی تھیں۔

جس پر شیخ رشیدکو 2 فروری کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں اسی روز اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

شیخ رشیدکی درخواست ضمانت 2 ماتحت عدالتوں نے مسترد کردی تھیں ، جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائئی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close