Featuredپنجاب

توشہ خانہ کی گاڑیوں سے متعلق کیس میں نواز شریف کو کلین چٹ مل گئی

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو توشہ خانہ کی گاڑیوں سے متعلق ریفرنس میں کلین چٹ دے دی۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں صدر مملکت آصف زرداری ، سابق وزرائے اعظم نواز شریف، یوسف رضا گیلانی اور دیگر کے خلاف توشہ خانہ کی گاڑیوں سے متعلق ریفرنس کی سماعت جج ناصر جاوید رانا نے کی، نواز شریف کی جانب سے ان کے وکیل رانا محمد عرفان جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری اور اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید کی جانب سے ارشد تبریز ایڈووکیٹ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ نیب کی جانب سے نواز شریف کے شامل تفتیش ہونے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔

رپورٹ کے مطابق نیب کا کہنا تھا کہ سال 1997 میں سعودی عرب حکومت کی جانب سے نواز شریف کو تحفے میں ملی گاڑی کو توشہ خانہ میں جمع کروا دیا گیا تھا، بعد ازاں تحفے میں ملی گاڑی کو وفاقی ٹرانسپورٹ پوول میں شامل کر لیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے گاڑی توشہ خانہ سے نہیں بلکہ وفاقی ٹرانسپورٹ پوول سے خریدی، نواز شریف نے گاڑی کی قیمت کی ادائیگی جعلی بینک اکاؤنٹ سے نہیں کی، نواز شریف کو جب گاڑی تحفے میں ملی تب انہوں نے گاڑی کو توشہ خانہ میں جمع کرایا، جب خریدی تو اس وقت گاڑی توشہ خانہ کا حصہ نہیں تھی۔ نیب نے رپورٹ میں استدعا کی ہے کہ عدالت نواز شریف کو توشہ خانہ ریفرنس سے خارج یا بری قرار دے سکتی ہے۔ عدالت چاہے تو سابق وزیراعظم نوازشریف کومقدمہ سےبری کردے۔

دوسری جانب صدر مملکت کے وکیل ارشد تبریز نے مؤقف اپنایا کہ آصف علی زرداری کو 5 سال کے لیے صدارتی استثنیٰ حاصل ہے، شریک ملزمان عبدالغنی مجید اور انور مجید پر بھی کیس نہیں چل سکتا۔ بعد ازاں احتساب عدالت نے کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو کے دائر کردہ ریفرنس کے مطابق یوسف رضا گیلانی پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف پر غیر قانونی طور پر گاڑیاں الاٹ کرنے کا الزام ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close