More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredدنیا

ویلنٹائن ڈے پر دنیا بھر سے ملاجلا ردعمل

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

ویلنٹائن ڈے کا آغاز قدیم روم میں ہوا تھا جہاں اسے یومِ تولید یا بارآوری کے طور پر منایا جاتا تھا۔

محبت کی علامت کے حامل تحائف اور سرخ گلابوں کے اس تہوار پر دنیا بھر میں ملاجلا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک مسیحی تہوار بن گیا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بعض مسلم اکثریت والے ملکوں میں اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔

محبت ایک فطری اور طاقتور جذبہ ہے‘ جو کبھی بھی، کسی کو بھی ، کسی سے بھی ہوسکتی ہے۔ محبت دو طرح کی ہوتی ہے، پاکیزہ محبت اور ناپاک محبت۔

پاکیزہ محبت خلوص،ایثار اور وفاداری پر قائم ہوتی ہے اور ہمیشہ پائیدار اور دائمی رہتی ہے۔ اور ہر قسم کے ذاتی مفاد، خود غرضی اور بے وفائی سے پاک ہوتی ہے۔

ناپاک خبیث محبت مالی، ذاتی اور جنسی‘ رذیل مفادات، خودغرضی اور بے وفائی پر قائم ہوتی اور ہمیشہ کمزور رہتی اور جلد ختم ہوجاتی ہے،بلکہ اس کا انجام دشمنی پر ہوتا ہے۔

جنوبی افریقہ کا جزیرہ ‘روبن’ افریقی رہنما نیلسن مینڈیلا کے ایامِ اسیری کی نسبت سے مشہور رہا ہے۔

مگر سنہ دوہزار سے چودہ فروری کو وہاں محبت کے نام پر بڑی بڑی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں دنیا بھر سے جوڑے حصہ لیتے ہیں۔

انڈونیشیا کے بعض علاقوں میں حکام نے طلبہ کے ویلنٹائن ڈے منانے پر یہ کہہ کر پابندی عائد کردی کہ یہ جنسی بے راہ روی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

ملائشیا میں نیشنل مسلم یوتھ ایسوسی ایشن نامی تنظیم نے خواتین اور لڑکیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جذباتی علامتوں اور تیز خوشبو کے استعمال سے اجتناب برتیں۔

تنظیم نے اس موقع پر ویلنٹائن ڈے مخالف پوسٹر بھی آویزاں کیے ہیں۔

تھائی لینڈ میں حکام لوگوں کو ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اس امید میں مفت گولیاں دے رہے کہ اس طرح شاید ملک کی گرتی ہوئی شرحِ پیدائش میں بہتری آئے۔

ممکنہ طور پر مائیں بننے کی حامل خواتین کو دی جانے والی ان گولیوں پر 28 ہزار ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی گئی ہے۔

پاکستان نے عوامی سطح پر ویلنٹائن ڈے کی تقریبات کو مسلم ثقافت کے منافی قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کر دی۔

سعودی عرب میں بھی پولیس اس دن کی مناسبت فروخت ہونے والی اشیا، مثلاً پھول اور تہنیتی کارڈ وغیرہ کے بارے میں چوکنا رہی۔

ویلنٹائن ڈے کی مخالفت صرف مسلم اکثریتی ممالک میں ہی نہیں ہے۔

جاپان میں ایک مارکسٹ گروپ نے ٹوکیو میں ایک بڑا بینر آویزاں کیا جس پر لکھا تھا ‘ویلنٹائن ڈے کو پاش پاش کر دو!’

بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ویلنٹائن ڈے کی تقریبات پر زیادہ ناک بھوں نہیں چڑھائی گئی۔

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close