More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredبلاگ

دنیائے اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

آج محترمہ کی تحمل، امن اور برداشت کی پالیسی ہی جمہوریت کی روح ہے

محترمہ بے نظیر بھٹو نے ضیا الحق جیسے آمرِ مطلق اور پھر پرویز مشرف ایسے ڈکٹیٹر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوام کے غصب شدہ حقوق ان کو واپس دلائے۔

خورشید شاہ

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کا شرف حاصل ہے اور یہ مقام انہوں نے سیاسی تدبر، جہدِ مسلسل اور عظیم قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت حاصل کیا۔

عوام، جمہوریت، انسانی حقوق، دفاعِ وطن اور آئینِ پاکستان کے لئے ان کی خدمات پر جب بھی کوئی مفکر ، صحافی اور دانشور قلم اٹھائے گا تو وہ سیاسی، آئینی، دفاعی، معاشرتی اور معاشی میدان میں محترمہ کی خدمات کو سنہری حروف میں درج کرے گا۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے ذوالفقار علی بھٹو شہید، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی قیادت میں جمہوری جدوجہد کی۔

ان کے قافلے کے دیگر قائدین کے شانہ بشانہ کام کیا اور سر زمین پاکستان کے عوام کی سربلندی اور حقوق کیلئے آواز بلند کی۔ مجھے فخر ہے کہ عوام اور جمہوریت کیلئے اپنی جان قربان کرنے والا ہمارا اولین اور عظیم رہنما شہید ذوالفقار علی بھٹو تھا۔

ان کے بعد ان کی بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے عوام کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا اور ملک اور عوام کیلئے جدوجہد اور خدمت کی نئی اور درخشندہ مثالیں قائم کیں۔ اور آخرکار اپنے عوام کیلئے جمہوریت، حقوق اور انصاف کی جنگ لڑتے ہوئے ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو لیاقت باغ راولپنڈی میں عوام کے درمیان اپنی جان قربان کردی۔

اگر آج ہم جمہوریت اور جمہوریت سے وابستہ امنگوں کے عہد میں زندہ ہیں اور طاقت کے ایوان اگر آج عوام کے منتخب نمائندوں کی سیاسی دسترس میں ہیں تو اس کا کریڈٹ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کو جاتا ہے۔ جنہوں نے ماضی کے مطلق العنان آمروں اور غاصبوں کے شکنجے سے اقتدار واپس لیکر عوام کی جھولی میں ڈالا۔

پیپلز پارٹی کے عظیم رہنماؤں اور کارکنوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ کارنامہ سر انجام دیا۔ آج محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ہم فخر سے یہ بات کہہ رہے ہیں کہہ انہوں نے ضیا الحق جیسے آمرِ مطلق اور پھر پرویز مشرف ایسے ڈکٹیٹر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عوام کے غصب شدہ حقوق ان کو واپس دلائے۔

تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ مشکلات کے دور میں مرد آہن، شیر ببر اور بے باک لیڈر اور اس طرح کے القابات رکھنے والوں نے پارٹی سے راہیں جدا کر لیں اور مشکل وقت میں بیرون ملک فرار ہو گئے یا پارٹی سے دوری اختیار کر لی۔

مگر سلام ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کی جرات اور عظمت کو جو کسی جابر اور آمر کے آگے جھکیں اور نہ جمہوریت اور عوام کی قیمت پر کسی آمر سے کوئی سمجھوتہ کیا۔ جمہوریت اور عوامی حقوق کی اس جدوجہد میں محترمہ نے اپنی ذات پر جبر، قید و بند اور جلا وطنی کی اذیتیں برداشت کیں۔

جنرل ضیاالحق کی آمریت کے مصائب کو یاد کرتے ہوئے محترمہ نے ایک بار لکھا کہ:گرمی کی شدت نے میری جیل کی کوٹھڑی کو تنور میں تبدیل کر دیا تھا اور میرے ہاتھوں کی جلد گرمی کی شدت سے اترنے لگی تھی اور چہرے پر گرمی کے داغ نمایاں تھے۔ رات کو کیڑے مکوڑے، مچھر اور دن کو مکھیاں چین نہیں لینے دیتی تھی‘‘اس طرح کے کئی دور محترمہ کی زندگی میں آئے مگر کبھی ایک لمحہ کیلئے بھی ان کے پائے استقامت میںلغزش نہ آئی۔

انہی مشکلات اور مصائب سے گزرتے ہوئے محترمہ دنیائے اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بن گئیں اور باوجود اس کے کہ ان کی وزارتِ عظمیٰ کے دونوں ادوار جمہوریت دشمنوں کی سازشوں کی وجہ سے نامکمل رہے، انہوں نے وطن اور اس کی عوام کیلئے کئی بے مثال کامیابیاں حاصل کیں جن میں میزائیل ٹیکنالوجی کا حصول بھی شامل ہے۔

حکومت اب کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو مگر سچ یہ ہے کہ ہم آج بھٹو اور محترمہ کے وژن کے عہد میں زندہ ہیں اور یہ عہد ہمیشہ زندہ رہے گا اور ہمیں کامیابیوں کی آخری منزل تک لے جائے گا۔محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنے دور اقتدار میں عورتوں کے حقوق کیلئے خصوصی اقدامات کئے۔

جن میں فرسٹ وومن بنک اور وومن پولیس اسٹیشن کا قیام، کراچی،کوئٹہ، لاہور، پشاور اور اسلام کی پانچ یونیورسٹیز میں وومن اسٹڈی سنٹرز کا قیام، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کیلئے پانچ فیصد کوٹے کا قیام، لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام، خواتین کی ترقی کیلئے وفاقی وزارت کا قیام،لیڈی کمپیوٹر سنٹرز کا قیام اور خواتین کیلئے قرضوں کا اجرا شامل ہیں۔

آج کوئی بھی ذی شعور اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ محترمہ کی تحمل، امن اور برداشت کی پالیسی ہی جمہوریت کی روح ہے اور آج اگر اس ملک میں جمہوریت ہے، اور جمہوری قدروں کی پہچان ہے تو یہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے اسی سیاسی وژن کی بدولت ہے جس وژن کو عوام نے دل و جان سے قبول کیا اور سیاسی نظام کیلئے اپنایا۔

مجھے یقین ہے کہ آنے والے وقت میں ہم ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے سیاسی وژن کی روشنی میں وطن عزیز کو دنیا کے خوشحال، مضبوط اور مستحکم ممالک کی صف میں لا کھڑا کریں گے۔

ہم اپنی قائد کو وطن اور جمہوریت کیلئے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم ان کے مشن کی تکمیل کیلئے عوام کے شانہ نشانہ اپنی جدوجہد ہمیشہ جاری رکھیں گے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close