Featuredسندھ

سٹے بازوں نے ڈالر سے متعلق اسٹیٹ بینک کے اقدامات کو ہوا میں اڑا دیا

کراچی: سٹے بازوں نے ڈالر سے متعلق اسٹیٹ بینک کے اقدامات کو ہوا میں اڑا دیا، پیر کو ڈالر کے اوپن مارکیٹ ریٹ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 181.20 روپے پر پہنچ گئے

حکومت اور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے زرمبادلہ کی خرید و فروخت کے نئے ریگولیٹری اقدامات سے سٹہ بازوں نے ’’گرے مارکیٹ‘‘کا رخ کرلیا جہاں سٹے بازوں کو فی ڈالر فروخت پر اوپن مارکیٹ ریٹ سے 4 تا 5 روپے زائد ملنے کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی رسد بری طرح متاثر ہوگئی۔

نتیجے میں پیر کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی اڑان خطرناک حد تک تیز رہی اور ڈالر کی قدر 181 روپے کی نئی ریکارڈ سطح سے تجاوز کرگئی۔ اوپن کرنسی مارکیٹ میں پیر کو ڈالر کی قدر یک دم 1.30 روپے کے اضافے سے 181.20 روپے کی سطح پر بند ہوئی جبکہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر صرف 4 پیسے کے اضافے سے 178.16 روپے پر بند ہوئی اس طرح سے اوپن مارکیٹ میں انٹربینک کی بہ نسبت ڈالر کی قیمت کا فرق بڑھ کر 3.04 روپے ہوگیا۔

یہ بھی پڑ ھیں : مصر میں بچوں کی آن لائن خرید و فروخت

اس ضمن میں ایکس چینج ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچہ نے  بتایا کہ زرمبادلہ کی خرید و فروخت سے متعلق سخت حکومتی اقدامات کے بعد اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی فروخت کے لیے آمد رک گئی ہے جس سے ڈالر کی اڑان تیز رفتار ہوگئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر میں ممکنہ اضافے کی افواہوں کے باعث سٹے بازوں نے گرے مارکیٹ کا رخ کرلیا جبکہ سخت ریگولیٹری قوانین کے باعث کالے دھن کے حامل ڈالر اور دیگر اہم غیر ملکی کرنسیاں ایکس چینج کمپنیوں میں فروخت کے لیے آنے کے بجائے گرے مارکیٹ میں اوپن مارکیٹ سے زائد قیمت پر فروخت کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو زرمبادلہ کی گرے مارکیٹ کے خلاف تیز رفتار کریک ڈاؤن کی ضرورت ہے جو ملکی معیشت کے ساتھ کھیل کررہی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close