بلوچستان

پیپلز پارٹی نے دھاندلی کے باوجود پاکستان کے مفاد میں انتخابات کو قبول کیا

کوئٹہ: ہمیں بلوچستان کے عوام نے بڑا مینڈیٹ دیا ہے، آزاد ارکان بھی پیپلزپارٹی میں آ رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ پی پی پی نے دھاندلی کے باوجود پاکستان کے مفاد میں انتخابات کو قبول کیا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے اسی لیے چاروں صوبوں سے نمائندگی ملی، بلوچستان میں جو منتخب ہوئے وہ تاریخی طور پرسیاسی حیثیت رکھتے ہیں، ہمیں بلوچستان کے عوام نے بڑا مینڈیٹ دیا ہے، آزاد ارکان بھی پیپلزپارٹی میں آ رہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ ہارنے والی کچھ قوم پرست جماعتیں واویلا کر رہی ہیں، جہاں وہ جیتے وہاں الیکشن کے نتائج ٹھیک ہیں لیکن جہاں ہارے وہاں اداروں کے خلاف زبان درازی کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ جو لوگ ان قوم پرستوں سے جیتے وہ پہلی بار نہیں جیتے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارے لوگ بھی کئی جگہوں سے غیر یقینی طور پر ہارے ہیں اور ہماری پارٹی کو بلوچستان کے کئی حلقوں میں تشویش ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ اختر مینگل جو زبان استعمال کر رہے ہیں وہ کوئی مہذب سیاستدان استعمال نہیں کر سکتا، قوم پرستوں کو پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ ہضم نہیں ہو رہا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم ان کی تمام تر گھناؤنی حرکتوں کے باوجود حکومت بنائیں گے، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان حرکتوں سے ادارے پست ہو جائیں گے تو یہ خام خیالی ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ہم بلوچستان کے عوام کی اپنی حکومت کے دوران بہترین خدمت کریں گے، ہمارے نمبر پورے ہیں تاہم ابھی تک وزیرِ اعلیٰ کے امیدوار کا فیصلہ نہیں ہوا۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت جس پر اعتماد کرے گی وہی وزیرِ اعلیٰ بنے گا، بلاول بھٹو زرداری نے اصولی مؤقف اپنا رکھا ہے، آج ریاست پاکستان کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے۔

سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن بلوچستان میں ہمیں حکومت بنانے کا واضح پیغام دے چکی اور وہ بلوچستان میں ہماری اتحادی ہو گی۔

اس موقع پر سردار سربلند خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کو بڑا مینڈیٹ دیا ہے، ہم بہت جلد اتحادیوں کے سا تھ مل کر حکومت بنانے والے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی جلد بلوچستان میں حکومت سازی کو حتمی شکل دے گی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ اختر مینگل نے اپنے دور میں کرپشن کی انتہا کر دی تھی، اختر مینگل کو ان کے اپنے کرتوتوں نے ہرایا ہے، اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک تنقید کرنے کے بجائے اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔

اُنہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی پارٹی 2 حصّوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close