بلوچستان

کوئٹہ : اکبر بگٹی قتل کیس میں جیت سابق صدرپرویزمشرف کی ہوگئی

انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو اکبربگٹی قتل کیس سے بری کردیاہے۔ بریت پانے والوں میں اس وقت کے وفاقی وزیرداخلہ آفتاب شیر پاو¿ اورسابق وزیرداخلہ بلوچستان شعیب نوشیروانی بھی شامل ہیں۔

کوئٹہ کی انسداد دہشتگردی عدالت میں آج اکبربگٹی قتل کیس کی سماعت ہوئی،نامزد ملزمان میں سے صرف آفتاب شیرپاو¿ عدالت میں پیش ہوئے۔ آج کی سماعت میں عدالت نے کیس کا فیصلہ سنایا جس کے تحت نواب اکبر بگٹی کے قتل میں نامزد سابق صدرپرویز مشرف، سابق وفاقی وزیرداخلہ آفتاب شیرپاو¿ اوراس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ شعیب نوشیروانی کو بری کردیا گیا۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے نواب اکبر بگٹی کے بیٹے جمیل اکبر بگٹی کی جانب سے قبرکشائی کیلئے دائر کردہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمان کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔

جمیل اکبربگٹی نے فیصلے کے خلاف تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔جمیل اکبر بگٹی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں، ہمارے ساتھ دھوکا کیا گیا۔ والد کی قبر کشائی سمیت 3 درخواستیں دائر کی تھیں جنہیں انسداد دہشت گردی عدالت نے مستردکردیا۔ جمیل اکبر بگٹی کے وکیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف نہیں ملا،فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔

بری ہونے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ آفتاب شیرپاو¿ کا کہنا تھا کہ عدالت نے تمام الزامات کو مسترد کر دیاہے۔عدالتی فیصلے کااحترام کرتے ہیں،آج کیس اپنے منطقی انجام تک پہنچ گیا۔ آفتاب شیرپاو¿ نے کہا کہ ہم مرحوم اکبربگٹی کے لواحقین کے جذبات کابھی احترام کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان کے اہم رہنما اور بگٹی قبائل کے سردار نواب اکبر خان بگٹی 26 اگست 2006 کو کوہلو میں کی جانے والی عسکری کارروائی کے دوران مارے گئے تھے جس کا مقدمہ 2009 میں بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر درج کیا گیا۔ مقدمے میں سابق صدر پرویز مشرف، آفتاب شیرپاو¿ اور شعیب نوشیروانی سمیت 12 افراد کو نامزد کیا گیاتھا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close