اسلام آباد

اپوزیشن نے وزیراعظم کےلئے 7سوالات تیار کرلیے،میاں صاحب تیاری کرکے آئیں، اعتزاز احسن

اسلام آباد : متحدہ اپوزیشن نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کیلئے سات سوالات تیار کرلیے ہیں جن کے جوابات جمعہ کے اسمبلی اجلاس میں طلب کیے گئے ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کے مشاورتی اجلاس کے بعد سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے شاہ محمود قریشی اور دیگر رہنماوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم کی سہولت کیلئے آسان سے سوالات تیار کیے ہیںجو پہلے ہی بتارہے ہیں تاکہ جمعہ کو جب وزیر عظم پارلیمنٹ میں آئیں تو سرپرائز نہ ہونا پڑے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ وزیراعظم نوازشریف مے فیئر فلیٹس سے متعلق وضاحت دیں۔ وزیر اعظم نواز شریف پارلیمنٹ میں 16 اور 16 اے ، 17 اور 17 اے مے فیئر فلیٹس سے متعلق وضاحت دیں اور بتائیں کہ وزیر اعظم ، ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کی مے فیئر فلیٹس میں کیا دلچسپی ہے جبکہ ان فلیٹس کی خریدار ی کیلئے ادا کیے جانے والے پیسوں پر کتنا انکم ٹیکس ادا کیا گیا۔ یہ کب خریدے گئے اور خریداری کے ذرائع کیا ہیں؟۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ فلیٹس وزیر اعظم کی ملکیت نہیں ہیں تو وہ ان بیانات کی وضاحت کریں جو مختلف اوقات میں ان فلیٹس سے متعلق شائع ہوئے ۔ وزیر اعظم بتائیں کہ 10 اپریل 2000 کو برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے کلثوم نواز کے بیان کے بارے میں کیا کہتے ہیں جس میں انہوں نے فلیٹس کی ملکیت تسلیم کی ۔ برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ میں 19 اکتوبر 1998 میں شائع ہونے والی خبر تھی کہ وزیر اعظم کی فیملی نیسکول اور نیسکون کی مالک بتائی گئی ہے اس خبر کی کیا حیثیت ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے بیان دیا تھا کہ وزیر اعظم نے یہ فلیٹس 1993 میں خریدے تھے۔
اعتزاز احسن نے سوالات کے متعلق مزید بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف 1985 سے 2016 تک بیرون ملک بنائی گئی جائیداد، اکاو¿نٹس اور آف شورکمپنیزسے متعلق بتائیں اور ان کیلئے رقم کن ذرائع سے حاصل کی گئی اور کن ذرائع سے بیرون ملک منتقل کی گئی اس کی بھی وضاحت کریں ۔ پارلیمنٹ اجلاس کے دوران وزیراعظم اوراہلخانہ کے جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلات بھی بتائی جائیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف ان سات سوالوں کی تیاری کرکے آجائیں وہ جمعہ کو تشریف لارہے ہیںان کو سرپرائزنہیں دینا چاہتے تھے میاں صاحب جب پارلیمنٹ آئیں ان سوالات کے جوابات دیں۔ان سوالات کے جوابات دینے کے بعد ممبران اسمبلی مزید سوال کرسکتے ہیں۔میاں صاحب سوالات کے جوابات نہیں دیں گے توہمارے پاس بھی بڑے آپشنز ہیں۔ ہمارے ٹی اوآریکساں اورمناسب ہیں جس میں سب لوگوں کے احتساب کی بات کی گئی ہے ۔ وزیراعظم نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا ہے اور جب ہم کہتے ہیں آغاز وزیراعظم سے ہوتوپوری مسلم لیگ رونا شروع کردیتی ہے۔ حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار کی سربراہی میں بنائی جانے والی ٹیم سے ٹی او آر پربحث کے لیے ہم بھی اپنی ٹیم کا اعلان کریں گے۔
اس موقع پر تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ نے اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم کو خط لکھا ہے لیکن حکومت کی طرف سے خورشید شاہ کے خط کا جواب نہیں آیا جب تک مشترکہ ٹی اوآرنہیں آئیں گے کارروائی آگے نہیں بڑھ سکے گی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close