اسلام آباد

اگر عدالتی فیصلے پہ بلاجواز تنقید ہو تو ججز جواب دے سکتے ہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس پاکستان نے انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ہماری ذمہ داری انصاف کرنا ہے جس سے معاشرہ قائم رہتا ہے اور الحمد اللہ ہمیں کوئی نکال باہر نہیں کرسکتا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ عدالت آئین کے تحت بنائی گئی ہے۔ عدالتیں ختم ہو جائیں تو پھر جنگل کا قانون ہو گا۔ ہم نا تو جلسہ کرسکتے ہیں اور نا ہی لوگوں کو ہاتھ کھڑا کرنے کا کہہ سکتے ہیں، مجھے جسٹس اعجازالاحسن نے برطانیہ کی عدالت کا فیصلہ نکال کر دکھایا کہ اگر عدالتی فیصلے پر بلاجواز تنقید ہو تو ججز جواب دے سکتے ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے خلاف غلط فہمیاں پھیلانے کاجواب دینا پڑتا ہے، کسی آئینی ادارے کو دھمکانا یا تنقید کرنا آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے۔ پیپلز پارٹی کے لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف نے عدالت اورلوگوں کوبے وقوف بنانے کی کوشش کی، 18 ویں ترمیم میں آرٹیکل 62 ون ایف کو برقرار رکھا گیا۔ آئین ایک عمرانی معاہدہ اور بہت مقدس ہے، عدلیہ اور فوج کو آئین نے تحفظ دیا ہے، آئین کا تحفظ اصل میں ملک کا تحفظ ہے، لوگوں کومعلوم ہے اس عدلیہ پر حملہ کس نے کیا، عدالت اتنی رحمدلی نہ دکھائے کہ ریاست کو جھیلنا پڑے۔ پاناما نظر ثانی کا فیصلہ اخبار میں مکمل نہیں چھپا، پورا فیصلہ چھپ جاتا تو یہ نہ کہتے مجھے کیوں نکالا، سسلین مافیا اور گارڈ فادرکی عدالتی آبزرویشن درست تھی، عدالت نے انھیں گارڈ فادر ایسے ہی نہیں کہا، آج کہا جارہا ہے کہ چیف جسٹس سمیت تمام ججوں کو باہر نکال دیں، یہ لوگ اپنے خلاف خبر نہیں چھپنے دیتے، عدالت کے سامنے جعلی دستاویزات پیش کی گئیں، نوازشریف نااہل ہونے کے بعد سپر وزیراعظم بن گئے ہیں، بطور پارٹی صدر نواز شریف وزیراعظم کو بھی نکال سکتے ہیں۔

راجا ظفرالحق سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ راجا ظفرالحق صاحب آپ عدالت میں آتے ہیں ہمیں خوشی ہوتی ہے، آج کل آپ کے ڈرانے والے لوگ نہیں آتے، ہمیں ڈرانے والے لوگ عدالت نہیں آتے انہیں تو لے کر آئیں کہ ذرا دیکھیں ہم ڈرتے ہیں یا نہیں، لطیف کھوسہ کے خلاف فیصلہ دیا لیکن ان کے ماتھے پر شکن نہیں آئی، لطیف کھوسہ فیصلے کو برا کہتے ہیں لیکن احترام کرتے ہیں۔ ججز کو اختیار آئین اورعدلیہ نے دئیے ہیں، ہمیں لوگوں پر عدلیہ کے وقار کو بحال کرنا ہے، کون صحیح اور کون غلط ہے اس کا فیصلہ لوگوں کو کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کی تضحیک اور تذلیل پر آرٹیکل 204 کے تحت سزا دے سکتے ہیں، توہین عدالت کیس میں مجرم کی سزا 6 ماہ قید ہے، الحمد اللہ ہمیں کوئی نکال باہر نہیں کرسکتا، ہماری ذمہ داری انصاف کرنا ہے، جس سے معاشرہ قائم رہتا ہے، ریاست کے ستون کی بنیاد عدلیہ ہے، نہ ہم پریشان ہیں اور نہ ہی قوم پریشان ہے، پاکستان کے عوام سپریم کورٹ کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے، ہماری ذمہ داری انصاف کرنا ہے جس سے معاشرہ قائم رہتا ہے،ناانصافی سے معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کُرتے کے سوال پر آگے سے سوال نہیں اٹھایا، موجودہ وزیراعظم کہتے ہیں انھیں کسی نے وزیر اعظم بنایا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو اسکینڈلائز کیا جارہا ہے، پاناما کیس کے فیصلے میں عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ نواز شریف نے مکمل سچ نہیں بتایا، فیصلے میں لکھا گیا کہ نواز شریف نے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی، وزیراعظم کہتے ہیں کہ انھیں نواز شریف نے وزیراعظم بنایاہے اور اب بھی وہی ان کے وزیراعظم ہیں۔ لطیف کھوسہ نے اپنے دلائل ختم کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 آئین سے متصادم ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔ لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہونے پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے بھی اس قانون پر ہاتھ کھڑاکیاہوگا، آپ کے مطابق آئین کی روح یہ ہے کہ ریاست پر ایماندار شخص حکمرانی کرے، اگر ادارے کا سربراہ ایماندار نہ ہو تو پورے ادارے پر اثر پڑتا ہے، کیا قانون ساز پارلیمنٹ کے ذریعے عدالتی فیصلے کا اثر ختم کیا جاسکتا ہے، کیا ہم اس بنیاد پر قانون کو کالعدم قراردے سکتے ہیں۔ عدالت نے الیکشن ایکٹ 2017 کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close