اسلام آباد

خواجہ سرا کی دوسرے خواجہ سراسے شادی حرام فعل ہے،علماء کے فتویٰ کیخلاف خواجہ سرائوں کا ایکا

اسلام آباد : خواجہ سراہوں کی آپس میں شادی کامعاملہ ،جڑواں شہروں کے خواجہ سراہوں نے علماء کے فتویٰ کے خلاف ایکاکرتے ہوئے احتجاج کافیصلہ کرلیاہے ۔گزشتہ روزایک خواجہ سرا نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ خواجہ سرا اگر شادی کے قابل ہوتاہے توپھروہ خواجہ سرا کہاں سے ہوگیا،قوم لوط کے فعل کوپروان چڑھانے کی کوشش ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ حکومت ایک اب میکنزم بنائے کہ خواجہ سراہوں کاٹیسٹ ہوناچاہئے جومرد خواجہ سراشادی کے قابل ہیں توپھر ان کی شادی کس عام خاتون سے جائز قرار دی جائے مگردوسرے خواجہ سراسے شادی حرام ہے اورہم اس فعل کوکسی صورت پروان نہیں چڑھنے دیں گے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شناختی کارڈپرگروکانام بھی قبول نہیں ہے گروشہرشہربدلاجاسکتاہے ،باپ کسی صورت نہیں بدلاجاسکتا۔ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ ”زنخہ“ایک ذات ہے جوکہ خالصتاًمردہوتاہے اوراس کی ادائیں خواجہ سراہوں والی ہوتی ہیں ان کی شادی اگرجائزقراردینی ہے توپھرکسی عام عورت سے کروائی جائے ۔دوسرے خواجہ سرا سے شادی حرام فعل ہے اورقوم لوط کے پیروکاربننے کی مضموم خواہش ہے ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے اتحادامت پاکستان کے چیئرمین ضیاء الحق نقشبندی کی جانب سے جاری کئے جانے والے فتوے کاجواب دیتے ہوئے کیا۔ 

ضیاء الحق نقشبندی نے کہاتھاکہ خواجہ سراہوں میں مردوں کی صفات رکھنے والے سے خواتین صفات رکھنے والے خواجہ سراکی شادی جائزہے ۔انہوں نے بتایاکہ اس سلسلے میں 50علماء نے یہ فتویٰ جاری کیاہے جس کے تحت خواجہ سراہوں کی شادی ہوسکتی ہے ،تاہم انہوں نے خواجہ سراہوں کی ایک قسم منساء جس میں اس کے مرداورعورت ہونے کایقین نہ ہوسکے تواس کے ساتھ شادی کسی صورت جائزنہیں ہے ،اس سلسلے میں جامعہ نعیمیہ کے مہتمم مفتی راغب نعیمی نے بتایاکہ ادارے نے تین سال قبل خواجہ سراہوں کی شادی کے بارے میں فتویٰ جاری کیاتھااوراس فتویٰ میں کچھ تبدیلیاں کرکے اس ادارے نے اب دوبارہ فتویٰ جاری کیاہے 

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close