اسلام آباد

ٹیکس اکٹھا کرنیوالے حماد اظہر خود کتنا ٹیکس دیتے ہیں؟ ندیم ملک نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

اسلام آباد: میاں محمد اظہر کے صاحبزادے حماد اظہر پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور (ریونیو) ہیں لیکن وہ خود کتنا ٹیکس دیتے ہیں، سینئر صحافی ندیم ملک نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا۔

حماد اظہر نے 2016ء میں 8031ء روپے بطور انکم ٹیکس ادا کئے

ٹوئٹر پر ندیم ملک نے لکھا کہ ”ایف بی آر کی ٹیکس ڈائریکٹری 2016ء کے مطابق حماد اظہر نے 8031ء روپے بطور انکم ٹیکس ادا کئے، ڈائریکٹری میں ان کا پورا نام میاں محمد حماد اظہر موجود ہے‘۔

اسی طرح ’2015کی ایف بی آر ڈائریکٹری کے مطابق انہوں نے انکم ٹیکس کی مد میں 6407روپے جمع کرائے ، یہاں بھی ان کا پورا نام موجود ہے “۔

ندیم ملک نے مزید لکھا کہ ”فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ٹیکس ڈائریکٹری 2013ءکے مطابق حماد اظہر نے ایک روپیہ بھی انکم ٹیکس ادا نہیں کیا“۔

ان کاکہناتھاکہ ”سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ 4398بلین روپے کے ٹیکس ہدف کے برعکس500بلین روپے کے شارٹ فال نے پاکستان اور عمران خان کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں ، کیا یہاں نااہلی پر احتساب کایہاں کوئی عمل ہے یا اگر سوال پوچھیں تو انہیں گالیاں دینے کی آزادی ہے ؟“۔

دوسری طرف حماداظہر خود بھی 2015,16اور 2017ءکے دوران ادا کیے گئے ٹیکس کی تفصیلات سامنے لاچکے ہیں، ان کی ٹوئیٹس کے مطابق 2017ءمیں انہوں نے ایک کروڑ بائیس لاکھ سے زائد ٹیکس ادا کیا اور آمدن کے ذرئع کاروبار، کرائے، پی ایس ایل کا منافع تھا۔

2016ءمیں انہوں نے 77لاکھ روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا اور آمدن کے ذرائع کاروبار اور پی ایس ایل کا منافع تھا ، 2015ءمیں بھی کاروبار، آپسی تقسیم اور پی ایس ایل کے منافع سے باون لاکھ چودہ ہزار آٹھ سو چھتیس روپے ٹیکس دیا۔

یہ بھی پڑھیں: تیس جون کے بعد خفیہ جائیدادیں رکھنے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی، حماداظہر

ان کامزید کہناتھاکہ عوامی ذمہ داری کے حامل افراد کی اپنے مالی معاملات سامنے رکھنا ذمہ داری ہے ، میں گزشتہ تین سال کے دوران تمام پلیٹ فارمز پر جمع کرائے گئے اپنے ٹیکس اور آمدن سے متعلق اعدادوشمار سامنے رکھ رہاہوں ، میری کمائی کا بڑا ذریعہ جو مجھے موصول ہوتاہے ، وہ اے او پی(ایسوسی ایشن آف پرسن) فرم کا منافع ہے ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close