پنجاب

دھرنے کے دوران میڈیا پر پابندی کا فیصلہ انتہائی منفی اقدام تھا، حافظ حمد اللہ

چنیوٹ: پشاور یونیورسٹی پر دہشت گردانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہیں، ریاستی ادارے عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں، دہشت گردی کی موجودہ لہر کافی خطرناک ہے، پوری قوم کو متحد ہو کر بیرونی دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا، اسلام ایسا خون خرابہ جس میں بے گناہ لوگ مارے جائیں اس کی اجازت نہیں دیتا۔ ان خیالات کا اظہار سینیٹر حافظ حمد اللہ نے چنیوٹ سے بہاولپور جاتے ہوئے ملتان میں مختصر قیام کے دوران کیا۔ جمعیت علمائے اسلام ضلع ملتان کے رہنما اور پاکستان اسلامک فورم کے صدر مولانا غلام مصطفی فردوسی، میاں جمشید اجمل، قاری ابوبکر مدنی اور رانا شاہد بھی ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے اس مرتبہ جو طریقہ واردات اختیار کیا ہے یعنی برقعہ پہن کر اندر داخل ہوئے ہیں اس سے تو یہ واضح ہوگیا ہے کہ دشمن داڑھی کے بعد ہمارے پردہ کے تقدس کو پامال کرنا چاہتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ سینیٹ میں ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے خلاف سب سے پہلے جمعیت علمائے اسلام نے آواز بلند کر کے اپنا حق نمائندگی ادا کیا، دھرنے کے دوران میڈیا پر قدغن لگانے کا فیصلہ انتہائی منفی اقدام تھا، پانامہ لیکس سکینڈل میں ملوث تمام افراد کا بلاامتیاز احتساب ہونا چاہئے، انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ سینیٹ میں پیش کردہ الیکشن اصلاحات بل میں ختم نبوت میں ترمیم ایجنڈے کا حصہ نہیں تھی، اس کے باوجود ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کر کے اسے سینیٹ میں پیش کرنا مبہم تھا جس پر جمعیت علما اسلام نے سب سے پہلے آواز بلند کی اور اس شق میں تبدیلی کی سختی سے مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام نے سینیٹ میں واضح کر دیا تھا کہ ختم نبوت کی شق میں تبدیلی قومی سلامتی کے لئے خطرہ اور مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہو گی، جس پر قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق نے جمعیت علمائے اسلام کے موقف کی تائید کرتے ہوئے ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کی مخالفت کی، جبکہ پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے مذکورہ شق میں تبدیلی کے خلاف سینیٹ میں پیش کردہ ترمیم کی کھلی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان کا اہم جزو ہے، اس شق میں کسی قسم کے ردوبدل کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت شق کے خلاف اسلام آباد میں دئیے جانے والے دھرنے کے پیچھے کون تھا اس بات سے سب واقف ہیں، صرف ایک وزیر کے استعفی کے لئے دھرنا دیا گیا جبکہ ختم نبوت قانون میں تبدیلی کے خلاف سب سے موثر کردار جمعیت علمائے اسلام نے ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے اصولی فیصلے کے تحت آئندہ چند دنوں میں اعلان کر دیا جائے گا، عمران خان قبل از وقت الیکشن کے مطالبے سے پہلے کے پی کے حکومت چھوڑ دیں۔۔۔۔۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close