سندھ

نیوکراچی کے افسوسناک واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائے : سعید غنی

کراچی: شہر میں جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے وہ امن امان کے لیے بہتر نہیں ہے پرامن انتخابات بنانے کے راستے میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں

پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ جو صورتحال پیدا کی جا رہی ہے اس سے ان طاقتوں کو فائدہ ہوگا جنہیں انتخابات میں اپنی شکست نظر آرہی ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ انتخابات متنازع ہوجائیں

انھوں نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان، نگراں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یہ مطالبہ کرنا چاہتا ہوں کہ ان واقعات کو روکیں اور ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو مجھے ڈر ہے کہ یہ آگ پورے شہر میں نہ پھیل جائے کسی بھی طور سیاسی عمل کے لیے بہتر ہوگا نہ ہی انتخابات کو پر امن بنانے کی کوششوں کے لیے بہتر ہو گا۔

سعید غنی نے ایک بیان میں کہا کہ ڈسٹرکٹ سینڑل میں نیوکراچی کے مقام پرایک افسوسناک واقعہ ہوا ہے پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی این اے 247 کے امیدوار اپنی کارنر میٹینگ کر رہے تھے تواچانک منتظمین کی جانب انہیں بتایا کہ آپ فوراً یہاں سے چلے جائیں کیوں کہ انھوں نے کچھ ایسی موومنٹ دیکھی تھی کہ کچھ خطرہ ہے امیدوارکو میٹنگ سے نکال کرگاڑی میں بیٹھایا گیا اورامیدوار کچھے فاصلے تک پہ پہنچے تھے کہ انہیں اطلاع موصول ہوئی کہ کارنرمیٹنگ کے مقام پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں 11 سالہ بچہ عبدالرحمن جو کہ میٹنگ میں اپنی فیملی کے ساتھ موجود تھا ایک اور شخص جن کا نام بھی عبدالرحمن وہ بھی زخمی ہوا۔

سعید غنی کا کہنا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ ان واقعات کا تسلسل ہے جو گزشتہ کئی روز سے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ہو رہے ہیں پاکستان پیپلز پارٹی پردفتر پر حملہ ہوکارکان کو حراساں کرنا ہو، پیپلز پارٹی کے جھنڈے اور بینرز اتارنے کی بات ہویہ تسلسل کے ساتھ واقعات ہو رہے ہیں انھوں نے کہا کہ چند روز قبل ناظم آباد میں ایک واقعہ ہوا جس میں ایم کیو ایم کا ایک کارکن ہلاک ہوا اور تین پیپلز پارٹی کے کارکن زخمی ہوئے اس واقعے کا بھی ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ عدالتی تحقیقات کرائی جائے ہائیکورٹ کے جج سے تحقیقات کرائی جائے لیکن اس پر کچھ نہ ہوا۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے تین کارکان زخمی ہوئے ہمارے امیدوار کی دو گاڑیاں جلیں اس کی ایف آئی آر آج تک پولیس نے نہیں کاٹی اور اب ایک اورواقعہ ہو گیا ہے انھوں نے کہا کہ میں یہ سمجھا ہوں کہ پولیس ان واقعات پر بروقت ایکشن لے لیتی تو شاید ہم ان واقعات سے بچ سکتے تھے ملوث افراد کے خلاف پولیس کارروائی کر لیتی شاید ان واقعات سے بچا جاسکتا تھا۔

سعید غنی نے کہا کہ شہر میں جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے وہ شہر کے امن امان کے لیے بہتر نہیں ہے پرامن انتخابات بنانے کے راستے میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں انھوں نے کہا کہ ہمیں شہر سے اور بھی ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ہماری کارنر میٹنگز اور انتخابی سرگرمیوں کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں ہماری کارکان پرتشدد کیا جا رہا ہے اورانہیں الیکشن مہم چلانے سے روکا جا رہا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close