دنیا

مودی کی ایران میں گہری دلچسپی

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو ایران کے دورے پر جا رہے ہیں۔ ایران سے ہندوستان کے بہت گہرے تعلقات رہے ہیں اور ایران کے خلاف امریکہ اور یورپ کی پابندیوں کے دوران بھی انڈیا ایران کے ساتھ کھڑا رہا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا ایران کا یہ پہلا دورہ ہے لیکن اقتصادی اور سفارتی نقطۂ نظر سے یہ انتہائی اہم ہے۔ مودی تہران میں ایران کے صدر ڈاکٹرحسن روحانی کے علاوہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے بھی ملاقات کریں گے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے اس دورے کا مقصد ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو اٹھائے جانے کے بعد باہمی اشتراک اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی کوششوں کو مزید تیز کرنا ہے۔

مودی سے پہلے انڈیا کے سڑک، شاہراہوں اور شپنگ کے وزیر نتین گڈکری، تیل کے وزیر دھرمیندر پردھان اور وزیر خارجہ سشما سوراج بھی تہران کا دورہ کر چکی ہیں۔

انڈیا ایران سے تیل خریدنے والا ایک اہم ملک ہے اور اس نے یورپ اور امریکہ کی پابندیوں کے درمیان امریکہ کے شدید دباؤ کے باوجود ایران سے خام تیل لینا جاری رکھا تھا۔

پابندیوں کے درمیان انڈیا کو ایران سے کافی مراعات بھی ملتی تھیں۔ خام تیل کی قیمتوں کی ادائیگی انڈین کرنسی روپے میں ہوتی تھی۔ بھارت دوائیں اور پابندیوں سے مستثنیٰ بعض دوشری اشیا بھی ایران کو برآمد کیا کرتا تھا۔

مودی کے اس دورے میں اس ساڑھے چھ ارب ڈالر کی ادائیگی کے طریقۂ کار اور وقت بھی طے کیے جائيں گے جو رقم بھارت پر واجب الادا ہے۔ یہ خطیر رقم ایران سے خریدے گئے تیل کی قیمتیں پابندیوں کے سبب نہ ادا کر پانے سے جمع ہو گئی ہے۔

انڈیا اور ایران کے درمیان چابہار بندرگاہ کی توسیع وتعمیر کے منصوبے کے ایک معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ انڈیا کے زیر نگرانی ہوگا۔ دونوں ممالک فرزاد بی تیل کے خطے میں انڈین کمپنیوں کے شامل ہونے سے متعلق بھی ایک سمجھوتے پر دستخط کریں گے۔ چابہار خطے کے فری ٹریڈ زون میں متعدد انڈین کمپنیاں سرمایہ کاری کرنے والی ہیں۔ اس سےمتعلق بھی ایک مفاہمت پر بات چیت ہو گی۔

ایران سے انڈیا کے ہمیشہ قریبی تعلقات رہے ہیں۔ چند برس قبل ایران میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ایران میں انڈیا کی مقبولیت تقریباً 70 فی صدتھی جو کہ دنیا کے سبھی ممالک سے زیادہ تھی۔ بھارت میں بھی ایران کے تعلق سے ایک مثبت رویہ رہا ہے۔

پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہندوستان نہ صرف تیل اور گیس کی اپنی مستقبل کی ضروریات کے لیے ایران کی طرف مائل ہے بلکہ وہ پابندیوں کے بعد ایران کی تعمیر نو میں سرمایہ کاری کا ایک بہترین موقع دیکھ رہا ہے۔

ایران انڈیا کی مستقبل کی پالیسی کا ایک انتہائی ملک ہے۔ پاکستان میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر انڈیا، افغانستان اور ایران کے ساتھ وسط ایشیا تک رسائی کے لیے ایک متبادل راستہ تلاش کررہا ہے۔ افغانستان کو شامل کر کے پاکستان کو الگ تھلگ کرنا بھی ایران سے انڈیا کے گہرے ہوتے ہوئے تعلقات کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ایرانیوں کو بھی بھارت میں گہری دلچسپی ہے۔ بڑی تعدار میں ایرانی طلبہ انڈیا کی ٹکنولوجی اور سائنس کی مختلف یونورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ انڈیا  اسلام اور ثقافت کا بھی ایک اہم مرکز ہے جو دنوں ملکوں کے درمیان گہرے تعلقات کا ایک اہم پہلو ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close