صفحہ اول بلاگ پاکستان میں انتخابات کا المیہ

پاکستان میں انتخابات کا المیہ

58 second read
0
0
22
Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

تحریر: مجاہد بریلوی

قیامِ پاکستان کے بعد بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے انتخابات بدقسمتی سے23سال بعد ہوئے۔ مزید بدقسمتی یہ کہ وہ بھی وطنِ عزیز کو دولخت کرگئے۔ اور پھر اس سے بھی بڑا المیہ یہ کہ بعد کے برسوں میں کوئی بھی الیکشن ایسا نہ تھا جو کسی بڑے بحران اور بھونچال کا باعث نا بنا ہو۔ مارچ 1969ء میں جب صدر جنرل ایوب خان اقتدار سے دستبردار ہو رہے تھے تو 1962 کے آئین کے تحت وہ اس وقت کے اسپیکر قومی اسمبلی کو قائم مقام صدر کے عہدے پر فائز کرسکتے تھے مگر جس غاصبانہ انداز میں وہ 8 اکتوبر 1958ء کو اقتدارمیں آئے، اسی روایت پر چلتے ہوئے جنرل یحییٰ خان بھی صدر ایوب خان سے اقتدار چھین کر اقتدار اعلیٰ کے مالک و مختار بن گئے۔

معتبر مؤرخین کا کہنا ہے کہ جنرل یحییٰ خان کا خیال تھا کہ مغربی اور مشرقی پاکستان میں جو نتائج آئیں گے، اس میں صرف ایک ہی بات پر اتفاق ہوگا، اور وہ ان کا یعنی جنرل یحییٰ خان کا صدر مملکت بننا۔

مگر جنرل یحییٰ خان اور ان کے ٹولے کو یہ علم نہ تھا کہ ہر الیکشن کی اپنی ایک حرکیات ہوتی ہیں۔ بھٹو صاحب کا پنجاب میں اکثریت سے قومی و صوبائی اسمبلی میں کامیاب ہونا محض تبدیلی نہیں ایک انقلاب تھا، روایتی جاگیردارں اور وڈیروں کے خلاف۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن کو جو کامیابی ملی وہ بھی ایک شدید ردعمل تھا، اسلام آباد کے حکمرانوں کے خلاف اور صوبائی خود مختاری کے لیے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ذرا 1970ء کے انتخابات پر ایک نظرڈال لیں۔ 1970ء میں قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں سے عوامی لیگ نے 160 (ساری کی ساری مشرقی پاکستان سے حاصل کی گئیں) اور پیپلزپارٹی نے 81 ( صرف مغربی پاکستان سے) نشستیں حاصل کیں۔ یقیناً یہ ایک صاف و شفاف الیکشن تھے، مگر اسلام آباد میں بیٹھی سویلین و فوجی نوکر شاہی کی نیت میں ابتداء ہی سے فتور تھا۔

دوسری بات یہ کہ عوامی لیگ کے قائد اتنی عظیم الشان کامیابی کے بعد مغربی پاکستان سے ابھرنے والی دوسری سیاسی قوت کو شریکِ اقتدار نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بظاہر 1970 کے اس خونی کھیل کے تین بڑے فریق تھے۔ جنرل یحییٰ خان، شیخ مجیب الرحمٰن اور ذوالفقار علی بھٹو۔ مگر ان تینوں کے اپنے اپنے مفادات تھے۔ اپنی اپنی ذات اور ہوس اقتدار۔

مگر یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ اس کا موقع فراہم کرنے میں یحییٰ خان کے فوجی ٹولے کا ہاتھ بھی تھا اور قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کا بھی جنہوں نے مشرقی پاکستان میں فوج کشی پر ‘خدا کا شکر’ ادا کیا تھا۔ 1970ء کے الیکشن نے ملک کو دولخت کیا تو اپریل 1979 میں پاکستانی سیاست کے سب سے سحر انگیز قائد کو ہی پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا۔

پہلے متفقہ آئین کی تشکیل، اسلامی سربراہی کانفرنس اور اس سے بھی بڑھ کر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانا ذوالفقار علی بھٹو کا ایک ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔ بھٹو صاحب نے اپنے ان کارناموں کے سبب تاریخ میں اپنا مقام محفوظ کرلیا ہے۔ بدقسمتی سے بھٹو صاحب کے ان تمام عظیم الشان کارناموں کا جن کا میں نے ذکر کیا۔ بھٹو صاحب ایک اسٹیٹس مین ہونے کے باوجود اپنے اندر کے فیوڈل سے جان نہ چھڑا پائے۔

بھٹو صاحب اپنے اقتدار کے پہلے ہی سال میں اپنی سیاسی جدوجہد کے پرعزم، نظریاتی ساتھیوں سے محروم ہوتے گئے جنہوں نے پارٹی کے قیام کے لیے اپنا خون پسینہ دیا۔ 76-1975 کے آس پاس دیکھا جائے تو چاروں صوبوں میں ان کے گورنر اور وزرائے اعلیٰ وہی موقع پرست سردار، نواب ،جاگیردارتھے جو بنیادی طور پر پیپلز پارٹی کے منشور کے بدترین مخالفین میں سے تھے۔

بھٹو صاحب ایسی سویلین اور ملٹری نوکر شاہی کے نرغے میں بھی آچکے تھے کہ جو ہر دور کے حکمرانوں کے آگے سر بسجود ہوتے ہیں۔ یوں مارچ 1977 کے الیکشن کے آتے آتے ذوالفقار علی بھٹو کے پیروں سے وہ زمین نکل چکی تھی جہاں کبھی عوام کا جم غفیر انہیں آسمان پر اٹھا لیتا تھا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ بھٹو صاحب کے خلاف بننے والے پاکستان قومی اتحاد کے پیچھے پنڈی اور آب پارہ بھی تھا اور امریکہ بہادر کی بدنام زمانہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکار بھی۔

بھٹو صاحب نے اپنی کتاب If I am Assassinated میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جس دن انہوں نے مارچ 1977 کے الیکشن کا اعلان کیا اُس سے کچھ ہی دیر پہلے ان کے ایک وزیر رفیع رضا بڑی عجلت میں اُن سے ملنے آئے۔ بھٹو صاحب لکھتے ہیں کہ رفیع رضا کا چہرہ سپاٹ حد تک سفید تھا۔ رفیع رضا نے بھٹو صاحب سے کہا، “آپ یہ الیکشن ملتوی کردیں کیونکہ دونوں صورتوں میں آپ کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔”

بھٹو صاحب رفیع رضا کو اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ انہیں کس کا پیغام دے رہا ہے۔ الیکشن کروانے کا تیر ان کے ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ اور پھر مارچ 1977 الیکشن میں جو کچھ انہوں نے کیا یا اُن سے ہوا وہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے ہی مترادف تھا۔ 1977ء کے الیکشن میں کل نشستیں 200 تھیں جن میں انتخاب سے پہلے ہی پیپلز پارٹی کے 19 ارکان بلا مقابلہ منتخب ہوگئے۔

آج بھی غیر جانبدار مؤرخین و مبصرین کا کہنا ہے کہ بھٹو صاحب کی پیپلز پارٹی باآسانی سادہ اکثریت سے یہ الیکشن جیت سکتی تھی۔ اس انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 155، پاکستان قومی اتحاد نے 36، اور آزاد امیدواروں نے 8 نشستیں جیتی تھیں۔ مارچ سے جولائی تک 4 ماہ میں جو تحریک چلی اس نے بھٹو صاحب کا دھڑن تختہ کر دیا اور اس کے بعد پوری ایک دہائی تک قوم انتخابات کا منہ نہ دیکھ سکی۔

جنرل ضیاء الحق کی پوری ایک دہائی کی فوجی آمریت کے بعد ہونا تو یہ تھا کہ ملکی سیاسی جماعتیں ماضی کی تاریخ سے سیکھتے ہوئے مستحکم جمہوری اداروں کی بنیاد رکھتیں۔ مگر ایک تو ضیاء آمریت کی باقیات سیاسی طور پر ایک بڑی قوت بن چکی تھی، پھر بدقسمتی سے جو پیپلز پارٹی ایک طویل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد 1988 کے الیکشن میں اقتدار میں آئی، اس کی پہلی ترجیح بھی ہر صورت میں اقتدار کے ثمرات سے مستفیض ہونا تھا۔

نومبر 1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کو 94 نشستیں ملی تھیں اس کے مقابل اسٹیبلشمنٹ کے کھڑے کیے گئے اسلامی جمہوری اتحاد کو ملنے والی نشستوں کی تعداد 64 تھی۔ پیپلز پارٹی کے اس وقت کے سرکردہ نظریاتی رہنماؤں کا خیال تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو صدر غلام اسحاق خان کی شرائط پر اقتدار لینے کے بجائے اسے ٹھکرا دینا چاہیے، مگر ایک دہائی کی شدید مار کے بعد جیالے مزید کوئی قربانی دینے اور آئندہ انتخابات تک کا انتظار کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔

پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت کو صدر غلام اسحاق خان نے محض 18 ماہ میں لپیٹ دیا اور اس میں بھی جنہوں نے سب سے زیادہ ہاتھ بٹایا وہ ہمارے آج کے سب سے بڑے جمہوری چیمپیئن نواز شریف تھے۔ 90 کی دہائی کو پاکستانی سیاست میں Sham Democracy کے نام سے یاد کیا جائے گا، اور اس کی ذمہ دار بھی دونوں ہی مرکزی دھارے کی جماعتیں ہیں، یعنی ن لیگ اور پی پی پی۔

دوسری بار میاں نواز شریف جب 1997 میں اقتدار میں آئے تو انہیں اسٹیبلشمنٹ کے تعاون سے دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی جس سے وہ با آسانی اپنی مدت پوری کر سکتے تھے۔ مگر ساڈا صدر، تے ساڈا جج کے ساتھ ساڈے جنرل کو بھی قابو لانے کے چکر میں محترم میاں صاحب بم کو لات مار بیٹھے۔ نتیجہ اکتوبر 1999 کا وہ فوجی انقلاب تھا جس نے جنرل مشرف کو ایک طویل عرصے تک اس بد قسمت ملک پر مسلط کر دیا۔

اکتوبر 1999 میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو نکال باہر کرنے اور اُس کے قائد میاں نواز شریف کو لمبی سزائیں دلوانے کے بعد پاکستان کی تاریخ میں آنے والے چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے سر میں بھی سودا سما گیا کہ وہ پاکستانی قوم کے لیے ایک بہتر نجات دہندہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اُس وقت اعلیٰ عدالتوں نے محترم جنرل صاحب کو ایک نہیں، دو نہیں، بلکہ پورے تین سال کے لیے آئینی طور پر مطلق العنان حکمراں بننے کا موقع بڑی آسانی سے فراہم کر دیا۔

محترم میاں صاحب اپنے رفقاء سمیت جیل میں تھے اور اُن کی مخالف اپوزیشن جماعتیں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی شادیانے بجا رہی تھیں۔ یہ درست ہے کہ ہمارے جنرل صاحب کی پہلی ٹیم نیک، شریف، اور پرعزم مشیروں وزیروں پر مشتمل تھی۔ پھر سال بھر ہی میں میاں نواز شریف بھی حوصلہ ہار بیٹھے اور باقاعدہ لکھ کر 10 سال کی توبہ کا معاہدہ کر کے اپنے دوست وطن یعنی جدّہ سدھار گئے۔

بے نظیر بھٹو کے بیرون ملک ہونے کے سبب پیپلز پارٹی اتنی مظبوط نا تھی کہ کوئی بڑا چیلنج ثابت ہوتی۔ یوں جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں الیکشن کروائے اور وہ ان کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہی ہوئے۔ مگر عسکری امور کے تمام اسرار و رموز کا پختہ تجربہ رکھنے والے جنرل کو سیاست کی ڈائنامکس یعنی حرکیات سے آشنائی نہ تھی کہ یہ وہ میدان ہے جہاں بقول شاعر

یہاں پگڑی اچھلتی ہے

اسے میخانہ کہتے ہیں

مسلم لیگ ن کے بطن سے پیدا ہونے والی ق لیگ سے جنرل صاحب نے 2002 کے الیکشن کے ذریعہ سویلین کیپ سر پر سجا لی، مگر 273 کی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت لانا جنرل صاحب کی ٹیم کے لیے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف تھا۔ ق لیگ کے بعد پی پی میں بھی نقب لگائی گئی اور محض ایک ووٹ سے بلوچستان کے ایک سرکردہ شریف سردار محترم ظفر اللہ خان جمالی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر بیٹھے، مگر سال گزرنے سے پہلے ہی جمالی صاحب کی شنوائی آگئی اور یوں بیرون ملک برسوں سے مالیاتی اداروں سے تربیت یافتہ محترم شوکت عزیز کے سر پہ وزارت عظمیٰ کا ہُما سجا۔

اس دوران 11/9 ہو چکا تھا، افغان جنگ کا جو طبل بجا اس نے ایک بار پھر وطن عزیز کو 80 کی دہائی میں دھکیل دیا، مگر اس بار کھلاڑی اور کپتان مختلف تھے۔ جنرل صاحب نے پانچ سال تو گزار دیے مگر مغرب بالخصوص امریکی دباؤ اتنا تھا کہ ہمارے محترم جنرل صاحب کو این آر او کے ذریعہ پیپلز پارٹی اور بے نظیر بھٹو کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔

دسمبر 2007 کا الیکشن اس منظم، مربوط حکمت عملی کے تحت ہی ہونا تھا مگر دوسری طور پر القاعدہ، طالبان، کی صورت میں جنگجوؤں کی فوج یہ کس طرح برداشت کر سکتی تھی کہ ایک مقبول عوامی جماعت عسکری قوت سے ہاتھ ملا کر، کہ جو اس وقت کی ضرورت بھی تھی، اسلام آباد میں ایک مستحکم جمہوری سسٹم کی بنیاد رکھتی؟

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت دراصل ہمارے جنرل پرویز مشرف کے زوال کا آغاز تھی تو دوسری طرف دبئی میں برسوں سے براجمان اقتدار کی منہ زور خواہش رکھنے والے محترم آصف زرداری کی لاٹری کھلنے کا وقت آ پنہچا تھا۔ 2008 کے الیکشن کا انعقاد، اور اس میں پیپلز پارٹی کا اقتدارمیں آنا معجزہ نہیں تھا، مگر ایک دہائی سے بیرون ملک علاج معالجے میں گھرے محترم آصف علی زرداری کا صدر مملکت بننا یقیناً ایک بڑا سیاسی معجزہ تھا۔

اور پھر اس سے بھی بڑھ کر تمام تر دشنام طرازیوں اور کرپشن کے سنگین الزاموں کے باوجود پانچ سالہ مدّت پوری کرنے کے بعد یقیناً کھلاڑیوں کا کھلاڑی ہونے کا لقب اُن کی شخصیت پر پوری طرح جچتا ہے۔ 2013 میں مسلم لیگ ن کی دو تہائی اکثریت سے جیت اور ایک صوبے کے علاوہ تینوں صوبوں میں صفایا، اور پھر تحریک انصاف کا تیسری بڑی قوّت بن کر سامنے آنا حال ہی کی تاریخ ہے۔

محترم میاں نواز شریف نے 14 سال اقتدار سے باہر رہ کر گزارے، جلاوطنی کی سختیاں بھی جھیلیں اور پھر پانچ سال اقتدار کے ثمرات سے دونوں ہاتھوں سے مستفیض بھی ہوئےْ تیسری بار وزارت عظمیٰ ہی نہیں، سیاست سے بھی باہر کیے جا رہے تھے تو اسلام آباد میں آہ و زاریاں کرنے والے ہزاروں تو چھوڑیں سینکڑوں بھی نہیں تھے۔

بد قسمتی سے آج جب پاکستانی قوم گیارہویں الیکشن میں جا رہی ہے تو اُس کی امید کی آخری کرن کہیں اور نہیں ابھی بھی پنڈی سے ہی پھوٹتی نظر آتی ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
مزید مماثل خبریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Check Also

کیا عمران خان بھٹو بن سکتے ہیں؟

تحریر: مجاہد بریلوی کیا پاکستانی سیاست کے سب سے سحر انگیز سیاستدان ذوالفقار علی بھٹو کا تح…