بلاگ

اڑیں گے پرزے

دروازہ کھلتے ہی جس چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی وہ مختلف اقسام کے پرندوں کی تیز چہکاریں تھیں۔ بعد میں یہ پرندے راہداری میں چلتے پھرتے بھی نظر آنے لگے۔ حتیٰ کہ ڈرائنگ روم میں الماریوں کے اوپر بھی حنوط کردہ پرندے دکھائی دیے۔

یہ آمنہ مفتی کا گھر ہےہفتہ وار کالم لکھا کریں گی۔ وہ معروف ناول نگار اور ڈراما نگار ہیں اور انھیں متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

ان کے گھر میں پرندوں کی بہتات سے مجھے ان کے مشہور سیریل ’الو برائے فروخت نہیں‘ اور ’سبز پری، لال کبوتر‘ یاد آ گئے۔ ان میں سے اول الذکر نے پاکستان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد انڈیا میں بھی خاصی لمبی اڑان بھری تھی۔آمنہ نے بتایا کہ ان کا پہلا شوق صحافت تھا، لیکن ماسٹرز کے بعد اور ایک اخبار میں کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد گھریلو حالات نے انھیں پٹڑی بدلنے پر مجبور کر دیا۔ تاہم ابوساطت سے انھیں اپنے ابتدائی شوق کا احیا کرنے میں مدد ملے گی۔

آمنہ کی تحریر میں جو بات سب سے نمایاں نظر آتی ہے وہ ان کی تیز نظر ہے جو معاشرے کے چہرے سے ساری پرتیں کاٹ کر منافقتیں سامنے لے آتی ہے۔ چنانچہ ان کے ناولوں اور ڈراموں میں بھی صحافی کا نشتر نظر آتا ہے۔

وہ اب تک دو ناول تحریر کر چکی ہیں جن میں خاصا ضخیم ناول ’آخری زمانہ‘ شامل ہے۔ اس میں انھوں نے عام لوگوں پر جنگوں کے اثرات کی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ ناول لکھتے لکھتے انھیں کئی برس لگ گئے، اور بیچ میں ایسا بھی لگا جیسے یہ کبھی ختم نہیں ہو گا، لیکن کسی نہ کسی طرح وہ اسے مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

آمنہ کے ٹی وی سیریلز بھی چبھتے ہوئے موضوعات پر مبنی ہیں۔ ’سبز پری، لال کبوتر‘ میں شیعہ سنی شادیوں کا احوال بیان کیا گیا ہے، جب کہ ’جہیز‘ میں عنوان کی مناسبت سے اس قدیم معاشرتی لت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

آمنہ نے بتایا کہ انھوں نے جو بھی ڈراما لکھا، اس پر طرح طرح کے اعتراضات کیے گئے کہ یہ تو نشر ہی نہیں ہو سکتا، اسے بدلنا پڑے گا، وغیرہ وغیرہ، لیکن آخر چینل کو وہ ڈراما نشر کرنا ہی پڑتا ہے

اس کے علاوہ ایک اور چیز بھی ہے جس نے انھیں معاشرے کے سب سے نچلے طبقوں سے جوڑے رکھا ہے۔ اس کا انکشاف ان کے شوہر عاصم مفتی نے کیا جو دھیرے سے آ کر گفتگو میں شامل ہو گئے۔

آمنہ نری مصنفہ نہیں بلکہ زمیندار بھی ہیں۔ ان کے شوہر نے بتایا کہ خود انھوں نے آمنہ سے زراعت کے بہت سے گر سیکھے ہیں۔ اس کا صرف ایک نمونہ ملاحظہ کر لیجیے کہ آمنہ نے اپنے باغات میں پپیتا اگانا شروع کیا۔ ان کی دیکھا دیکھی آس پاس کے علاقوں کے زمینداروں نے بھی نقل شروع کر دی، لیکن عقل استعمال نہیں کی کہ پپیپتے جیسے گرم مرطوب ماحول والے پھل کو جو ماحول درکار تھا وہ مہیا نہیں کر سکے، اس لیے ناکام رہے۔

آمنہ معاشرے کی اختیار کردہ مجموعی سمت سے خاصی مایوس نظر آتی ہیں۔ انھوں نے کہا: ’ہم تو بڑے سادہ دل، بڑے صاف ستھرے، بڑے ’کھلے ڈلے‘ لوگ تھے لیکن ایک نسل کے اندر اندر ہم میں اتنی حرص، اتنی تنگ نظری، اتنی شدت کہاں سے آ گئی؟‘

یہی وہ موضوعات ہیں جن کا جائزہلکھے جانے والے کالموں میں لیں گی۔ ان کے کالم کا عنوان ’اڑیں گے پرزے‘ ہو گا جس میں ان کے گھر کے ماحول اور تحریروں کی اڑان کی ایک جھلک پھر سے ملے گی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close