انٹرٹینمنٹ

عدالت نے برٹنی اسپیئرز کے والد کی 13 سالہ ‘سرپرستی’ معطل کردی

امریکا کے شہر لاس اینجلس کی عدالت نے بالآخر پاپ گلوکارہ برٹنی اسپیئرز کی درخواست پر والد جیمز اسپیئرز 13 برس سے گلوکارہ کی زندگی اور رقم پر حاصل ‘سرپرستی’ کو معطل کردیا۔

جیمز اسپیئرز گزشتہ 13 سال سے بیٹی کے قانونی ’سرپرست‘ (conservator) تھے اور گلوکارہ انہیں ہٹانے کی خواہاں تھیں۔

برٹنی اسپیئرز کی خواہش کے باوجود کم از کم 3 مرتبہ عدالت نے ان کے والد کو ’سرپرست‘ کے طور پر ذمہ داریاں جاری رکھنے کا حکم دیا تھا لیکن بعدازاں خود جیمز اسپیئرز نے سبکدوشی کے لیے رضامندی ظاہر کردی تھی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برٹنی اسپیئرز کے مطابق جج کی جانب سے والد کو حاصل قانونی ‘سرپرستی’ معطل ہونے پر وہ خوشی سے سرشار ہیں۔

3 گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت میں لاس اینجلس کی اعلیٰ عدالت کی جج برینڈا پینی نے جیمز اسپیئرز کو اپنی بیٹی کی 6 کروڑ ڈالر کی جائیداد کی نگرانی سے ہٹادیا اور مکمل سرپرستی ختم کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کے لیے نومبر کی تاریخ طے کردی۔

عدالت میں برینڈا پینی نے جیمز اسپیئرز کو اس وقت معطل کرنے کا حکم دیا جب گلوکارہ کے وکیل نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے والد مزید ایک دن بھی ان کے معاملات میں ملوث رہیں۔

جج برینڈا پینی نے کہا کہ ‘موجودہ صورتحال قابل برداشت نہیں ہے، یہ ایک زہریلے ماحول کی عکاسی کرتی ہے جس کے لیے جیمی اسپیئرز کو معطل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا اطلاق آج (29 ستمبر) سے ہوگا’۔

جج نے برٹنی اسپیئرز کے کاروباری اور ذاتی معاملات کو کنٹرول کرنے والی کنزرویٹر شپ کو ختم کرنے کی درخواست پر بحث کے لیے 12 نومبر کی سماعت مقرر کردی۔

عدالت کے حکم کے بعد برٹنی اسپیئرز نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ ایک چھوٹے جہاز کے کاک پٹ میں پائلٹ کے برابر میں بیٹھی ہیں اور طیارے کا کنٹرول سنبھالی ہوئی ہیں۔

انہوں نے قانونی سرپرستی کا ذکر کیے بغیر لکھا کہ ‘میں پہلی مرتبہ جہاز اڑا رہی ہوں، میں خوفزدہ تھی’۔

گزشتہ ہفتے نیویارک ٹائمز کی دستاویزی فلم میں انکشاف کیا گیا تھا برٹنی اسپیئرز کے والد کی مقرر کی گئی سیکیورٹی فرم نے 2008 سے لے کر ڈاکیومنٹری ریلیز ہونے تک قانونی سرپرستی کے دوران گلوکارہ کی فون کالز اور ٹیکسٹ میسیجز کی نگرانی کی تھی۔

دستاویزی فلم میں سابق بلیک باکس سیکیورٹی کمپنی کے ملازم ایلکس ولاسوو نے بتایا تھا کہ برٹنی اسپیئرز کے آئی کلاؤڈ اکاؤنٹ کو لاگ اِن کیا تھا اور گلوکارہ کے فون کے نظام کو اس پر آن کردیا تھا، ان کے کمرے میں مائیکروفون بھی رکھا گیا تھا۔

دستاویزی فلم کے مطابق ایلکس ولاسوو نے جب برٹنی اسپیئرز کی نگرانی پر سوال اٹھایا تو انہیں بتایا گیا تھا کہ گلوکارہ کے رابطوں کا جائزہ ‘ان کی اپنی حفاظت اور تحفظ کے لیے’ کیا گیا تھا اور یہ کہ قانونی سرپرستی کی نگرانی کرنے والی عدالت ‘اس سے آگاہ’ تھی۔

تب سے لے کر گزشتہ 13 سال سے ان کے والد ہی ان کے سرپرست رہے اور گلوکارہ نے گزشتہ دو سال سے متعدد بار انہیں ہٹانے کی درخواستیں دائر کی تھیں، جنہیں مسترد کیا گیا تھا۔

برٹنی اسپیئرز نے حال ہی میں 13 ستمبر کو اپنے دیرینہ بوائے فرینڈ سام اصغری سے منگنی بھی کی تھی، جن سے ان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔

سام اصغری سے قبل برٹنی اسپیئرز نے 2004 میں اپنے بچپن کے دوست جیسن ایلن الیگزینڈر سے شادی کی تھی مگر بدقسمتی سے اسی سال دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی تھی۔

بعد ازاں برٹنی اسپیئرز نے گلوکار کیون فیڈرلائن سے 2004 کے آخر یں شادی کی، جن سے 2007 میں ان کی طلاق ہوگئی۔

برٹنی اسپیئرز کو دوسرے شوہر سے دو بچے بھی ہیں اور ان کی حوالگی نہ ملنے سمیت دیگر قانونی مسائل اور پیچیدگیوں کی وجہ سے گلوکارہ 2008 میں ذہنی توازن کھو بیٹھی تھیں، جس وجہ سے ان کے والد کو عدالت نے ان کا قانونی سرپرست مقرر کیا تھا۔

 

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close