سندھ

درد کے رنگوں سے دستکاری

دکھوں کے بیج نہیں ہوتے، وہ ایسے ہی اگ آتے ہیں، دل میں، ذہن میں، آنکھوں میں اور زمین پر اور ان دکھوں کی فصل کاٹتے کاٹتے عمریں کٹ جاتی ہیں۔

مجھے نہیں پتہ کہ رات کے اختتام سے پہلے رات کے سناٹے میں وہ کون سا درد ہے جس کو یاد کر کے مور بول پڑتا ہے اور اس ہوک سے کچھ آنکھوں سے نیند کیوں روٹھ جاتی ہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ دکھوں کی تپتی دوپہروں میں نیند بن بلائے مہمان کی طرح آنکھوں کے آنگن میں کیوں آ کر بسیرا کرتی ہے۔

میں چہرے پر وقت سے پہلے پڑی ان لکیروں کے متعلق بھی شاید کبھی نہ جان سکوں کہ ان لکیروں میں دردوں کی کتنی خشک سالیاں دفن ہیں۔ میں ان گھروں کے کچے آنگنوں کا درد بھی نہ جان سکوں گا جو برس میں نہ جانے کتنے ماہ ویران پڑے ہوتے ہیں۔ اور میں شاید ان آنکھوں کی تکلیف بھی نہ جان سکوں جن کے پیارے ان کے بازوؤں میں وقت سے پہلے اپنی سانسیں گنوا چکے۔

یہ آنکھیں جن کا سرمایہ نمک بھرا پانی ٹھہرا، اور ایسے نہ جانے کتنے منظر ہیں جو تھر کے اس وسیع و عریض ریگستان میں زقوم کی جھاڑیوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں۔

ہم جب تھر کی بات کر رہے ہوتے ہیں تو ایک حیرت انگیز لینڈاسکیپ کی بات ہو رہی ہوتی ہے۔ سبط حسن نے کیا خوب لکھا ہے کہ "تہذیب کی تشکیل و تعمیر میں طبعی حالات کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ ہر تہذیب کا اپنا ایک مخصوص جغرافیہ ہوتا ہے۔ اس کے دریا اور پہاڑ، جنگل اور میدان، پھل پھول اور سبزیاں، چرند پرند، آب و ہوا اور موسم یعنی اس کا خارجی ماحول اس کے طرز عمل، ذریعہ عمل، ذریعہ معاش، رہن سہن، خوراک و پوشاک، مزاج و مذاق، اخلاق و عادات، جذبات و احساسات غرضیکہ اس علاقے کے انسانوں کی زندگی کے ہر پہلو پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔

"یہی وجہ ہے کہ ریگستانی علاقوں کی تہذیب قطب شمالی کے برف پوش میدانوں کی تہذیب سے مختلف ہوتی ہے۔ سمندر یا دریاؤں کے کنارے بسنے والوں کی تہذیب میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ زبانوں کا جنم اور لہجوں کی تبدیلی بھی ان معروضی حالات کی مرہون منت ہی ہوتا ہے۔”

عمرکوٹ کے جنوب میں آپ اگر کمہاروں کے ایک مشہور گاؤں ‘وھیرو’ کے بیچوں بیچ مشرق کی طرف چلے جائیں گے تو تھر کی جنگلی گھاس سے بنی کچھ جھگیاں آپ کو نظر آئیں گی۔ سفید ریت کی وجہ سے سب دھلا دھلا سا نظر آتا ہے۔ میری رہنمائی وہاں کے ایک سماجی کارکن ممتاز کنبھر کر رہے تھے۔ میں جب ان گھاس پھوس سے بنی جھگیوں میں پہنچا تو ایک جھگی میں ایک نوجوان لڑکا قالین بن رہا تھا

رنگین دھاگوں کی ڈوریاں ان لوگوں کی تمناؤں کی طرح اس دیوار سے لٹکی تھیں، جن سے ہوا اور دھوپ بے خطر اندر چلی آتی تھی۔ وہ نوجوان جس کا نام گڑسی میگھواڑ تھا، وہ فقط ڈھاٹکی لہجے میں بات کر پاتا، البتہ اردو سندھی سمجھ وہ خوب لیتا۔

اس سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ چھ برس کی عمر سے یہ کام کر رہا ہے۔ یہ قالین ان لوگوں سے بیوپاری بنواتے ہیں، سارا خام مال بیوپاری فراہم کرتا ہے، جیسے، قالین بنانے کے لیے فریم، دھاگہ، نقشہ وغیرہ۔ اگر تین آدمی روز دس گھنٹے کام کریں تب جاکر ایک قالین پندرہ دن میں تیار ہوتا ہے اور اس کی مزدوری ان کو چار سے چھ ہزار ملتی ہے۔

میں نے گڑسی سے جب پوچھا کہ: "اگر اچانک بارش آجائے یا کسی اور حادثے سے قالین کو نقصان پہنچے تب کیا ہوتا ہے؟”

گڑسی جو قالین بننے کے کام میں لگا ہوا تھا، مقررہ رنگ کا دھاگہ دوسرے سیدھے کھنچے ہوئے سفید دھاگوں کے بیچ میں سے گزارتا، پھر ہاتھ میں پکڑی ہوئے تیز دھار والی مخصوص چھری سے اسے کاٹ لیتا اور لکڑی کے بنے ہوئے پنجے سے وہ اس دھاگہ کو اوپر سے مارتا جاتا کہ میلان برابر بیٹھے۔ میرے اس سوال پر سارے عمل ساکت ہوگئے۔

گڑسی نے سب چھوڑ کر مجھے دیکھا، اس کی آنکھوں میں اچانک سے بے رنگ ریت کے ٹیلے سے نظر آنے لگے: "اگر ایسا کچھ ہوا تو وہ ہم کو بھرنا پڑے گا۔ ایک روپیہ سے ہزاروں تک۔ اور پھر یہ قرضہ کبھی نہیں اترتا۔”

اپنی زبان میں یہ جواب دے کر اس نے ناک پر انگلی رکھ کر توبہ کی، ایک پھر دوسرا کان پکڑا اور ہاتھ جوڑے، اور پھر آنکھیں موند کر کوئی دعا پڑھنے لگا کہ کبھی ایسا نہ ہو۔ یہ سب کچھ لمحوں میں ہوا۔ وہ پھر قالین کو بننے لگا۔

ان گھاس پھوس کی جھونپڑیوں کے بھی آنگن ہوتے ہیں، صبحیں، دوپہریں، لمبی شامیں ان آنگنوں سے گزر کر دن کو گزار دیتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ گرمیوں میں جب دوپہریں لمبی ہوجاتی ہیں اور سورج کی تپش کی وجہ سے ایک عجیب خاموشی کی چادر چہار سو تن سی جاتی ہے، تب تھر کے ان ہزاروں لاکھوں گھروں میں سے سینکڑوں ایسے گھر ہوتے ہیں جہاں اپنے بچھڑے یا دور بسے ہوئے پیاروں کو یاد کر کے، سینے سے ایک درد کی چیخ ابل پڑتی ہے۔

اس درد کی چیخ کو مقامی زبان میں ‘اوسارو’ کہتے ہیں۔ اگر تپتی دوپہر میں اندر سے یہ چیخ اور آنکھوں سے آنسو نہ نکلیں تو نہ جانے کتنے دل درد کے غبار سے پھٹ جائیں۔ اس وقت اکثر عورتیں سوئی دھاگے کے کام میں مشغول ہوتی ہیں۔ سوئی، دھاگے، سینے پرونے، دردوں، رنگوں اور دوپہروں کا صدیوں کا ساتھ ہے۔

اندر گڑسی قالین بن رہا تھا اور آنگن میں دو عورتیں سینے کا کام کر رہی تھیں۔ ایک رلی سی رہی تھی اور دوسری شاید تکیے کے غلاف پر پھول بوٹے بنا رہی تھی، یہاں بھی زبان کا مسئلہ ہوا جسے حل کرنے میں میرے ساتھی نے مدد دی۔

ویربائی جو رلی سی رہی تھی، اس نے بتایا کہ "رلی کی بہت ساری اقسام ہیں، پھولوں والی، ٹک والی، کنڈڑی والی، پٹیوں والی، ‘ٹکنڈی’ بھی رلی کا ایک قسم ہے، اگر آپ سارا تھر گھومو گے تو سینکڑوں نام مل جائیں گے رلیوں کے، ہر ایک کا اپنا حساب ہے۔ اگر آپ سامیوں (ایک ہندو خانہ بدوش قبیلہ) کی رلیاں دیکھیں گے تو دنگ رہ جائیں گے۔” ہم نے کیونکہ ابھی تک سامیوں کی بنی ہوئی رلیاں نہیں دیکھی تھیں اس لیے ہم حیران و پریشان بھی نہیں ہوئے تھے۔

صبح سے شام تک میں اس حوالے سے بہت سارے چھوٹے چھوٹے گھروں میں گیا۔ اجتماعی درد وہ ہی تھے جو تھر کی ریت کے نصیبوں کے ہیں۔ دکھ ہر جگہ ہیں، ہر وجود میں ہیں، بس کریدنے کی دیر ہے۔ پھر ان وجودوں کے اندر میں جھانک کر دیکھیں تو نہ جانے دکھوں اور دردوں کی کتنی قبریں ہیں جو ان کے دل کے قبرستان میں بنی ہوئی ہیں۔

ایک ایک وجود اپنے اندر درد کی ایک کائنات رکھتا ہے اور وہ انسان ان دردوں کا قبرستان ساتھ لیے آپ کے ساتھ ہنس رہا ہوتا ہے، دنیاداری نبھاتا جاتا ہے، تہواروں پر مل جائیں تو کبھی کبھار نئے کپڑے بھی پہن لیتا ہے، میٹھا بھی کھاتا ہے، پر جب تپتی دوپہروں میں وہ اکیلا ہوتا ہے تو پھر دردوں کی تکلیف سہنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں رہتی

شام کے سائے ڈھلنے لگے تھے۔ میں دن کے آخری گھر میں گیا ۔گھر کے اندر چارپائی پر ایک وقت سے پہلے بوڑھا ہوتا ہوا آدمی لیٹا ہوا تھا، اور باہر چھوٹے سے آنگن میں ایک عورت رومال پر پھول بوٹے سی رہی تھی۔ پوچھنے پر اس نے رادھا نام بتایا۔

ہم نے رادھا سے اس کے سینے پرونے اور پھول پتیوں کے متعلق پوچھا تو کچھ دیر خاموشی رہی، پھر جواب آیا: "اس میں سیکھنا کیا ہے۔ یہ کام تو ہم تب سے دیکھتے آئے ہیں جب سے آنکھیں کھولی ہیں۔ تھر سے بارشیں تو روٹھ گئی ہوں جیسے۔ فصل ہوتی نہیں تو یہ ہاتھ کی محنت مزدوری زیادہ کرنی پڑتی ہے، تب کہیں جا کر دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہوتا ہے۔”

رادھا سوئی سے سی تو پھول پتیاں رہی تھی پر الفاظ زقوم کی جھاڑیوں کی طرح اس کی زبان سے نکلتے اور میرے ذہن کی زمین پر جڑیں پکڑتے جاتے۔ "وہ کام جو ہمیں ثقافتی ورثہ کے طور پر ملے ہیں، ان کو ہم کرتے ایک ذہنی سکون حاصل کرتے ہیں، مطلب کہ بارش خوب برسے، کھیتوں میں ہریالی ہو، افلاس کی وجہ سے خانہ بدوشی نہ ہو، تو ہم اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھ کر اپنی اولاد یا اپنے پیاروں کے لیے یہ رلیاں، تکیے، ازار بند، رومال، دوپٹہ، چوٹیاں، چادریں بڑی خوشی سے بناتے اور بغیر کسی وقت کی پابندی کے بناتے۔ پر اب یہ کام فقط اس لیے ہوتا ہے کہ پیٹ کی بھوک کو مٹایا جا سکے۔”

یہ بھی ٹھیک ہے پر جب اس محنت مزدوری اور وقت سے پہلے اپنا نور کھوتی آنکھوں کی کی ہوئی مزدوری کی رقم پوری نہ ملے تو اس سے بڑا استحصال اور کیا ہو سکتا ہے؟

آپ اس آرٹیکل میں جو بھی تصویریں دیکھیں گے، ان میں رنگوں کی خوبصورتی کی ایک بہار آپ کو نظر آئے گی۔ رنگ اور ان رنگوں کا ترتیب وار ملاپ کسے اچھا نہیں لگتا۔ پر ان رنگوں کو اگر غور سے دیکھیں گے تو دکھتی اور تپتی دوپہروں کے دکھوں کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔

یہ لوگ جن کا رنگوں پر سے ایمان اٹھتا جا رہا ہے، اس ایمان کی بحالی کے لیے حکومت کو، ہم کو، ہم سب کو کچھ نہ کچھ سوچنا پڑے گا اور عملی کام کرنا پڑے گا، کہ ان لوگوں کی محنت کی اجرت اتنی تو ملنی چاہیے جس کے وہ حق دار ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close