کھیل و ثقافت

صرف کرکٹ نہیں، باقی کھیل بھی توجہ کے منتظر

عام انتخابات سے تبدیلی کی ہوا ایسی چلی جس نے سیاسی میدان میں بڑے بڑے برج گرا دیے، پارلیمانی سیاست کرنے والی نامور شخصیات 2018 میں بننے والی پارلیمنٹ میں نظر نہیں آ رہیں، تحریک انصاف نے 22 سال قبل انصاف کا نعرہ لگا کر سیاسی سفر کا آغاز کیا لیکن انصاف کے نام پر عمران خان کی تحریک میں ” تبدیلی اور پھر احتساب ” کا عنصر بھی شامل ہوگیا۔ 2013 میں پی ٹی آئی کو اکثریت نہ ملی تو کرپٹ سیاستدانوں کے کڑے احتساب اور ملک کی لوٹی دولت واپس لانے کا نعرہ لگا کر عمران خان نے 2018 الیکشن کےلیے مہم کا آغاز کیا، لگتا ایسا ہی ہے کہ عوام نے عمران خان اور تحریک انصاف کے امیدواروں کو اس امید پر ہی ووٹ دیا کہ جو کام حکومت کرنے والی روایتی جماعتیں نہ کرسکیں وہ عمران خان کی سربراہی میں پی ٹی آئی کرے گی۔

سیاسی میدان کے ساتھ تبدیلی کے آثار کھیل کے میدانوں میں بھی نظر آنے لگے ہیں، پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین تبدیل ہوچکے ہیں اور یہ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہونا ہی تھا جس کی امید کی جارہی تھی۔ تحریک انصاف کو حکومت بنانے کےلیے جب عددی برتری حاصل ہوگئی تو اس وقت ہی نہ صرف کھیلوں کے حلقوں بلکہ سیاسی راہداریوں میں بھی یہ باتیں گردش کرنے لگیں کہ سب سے پہلا نشانہ نجم سیٹھی بنیں گے اور وہی ہوا۔ جب سوشل میڈیا پر نجم سیٹھی کو تبدیل کرنے کی باتیں چلنے لگیں تو نجم سیٹھی نے خود ہی مستعفی ہونے کا اعلان کردیا جس کے بعد عمران خان نے احسان مانی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کو نیا چیرمین نامزد کردیا۔ پاکستان پی سی بی کے آئین کے مطابق مانی نئے چیرمین منتخب ہوگئے۔ عمران خان نے 2013 کے انتخابی نتائج کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا اور انہوں نے نجم سیٹھی کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر 35 پنکچر کا الزام بھی لگایا، پھر جب نواز شریف نے نجم سیٹھی کو پی سی بی کا چیئرمین بنایا تو اس وقت بھی نجم سیٹھی عمران خان کے نشانے پر تھے۔

اب احسان مانی عمران خان کی خواہش کے مطابق پی سی بی کے چئیرمین بن چکے ہیں۔ پی سی بی میں ایسی تبدیلی کوئی پہلی بار نہیں ہوئی، حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ بلکہ کھیلوں کی دیگر تنظیموں کے سربراہ بھی تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس بار تبدیلی یہ ہے کہ وزیراعظم خود ایک سپورٹس مین رہ چکے ہیں اور کھیلوں کی دنیا میں کیا کھیل کھیلا جاتا ہے وہ وزیراعظم عمران خان کو معلوم ہے، اسی لیے کھیلوں کی دنیا سے وابستہ افراد کو بھی امید ہے کہ کھیلوں کے میدانوں میں بھی تبدیلی نظر آئے گی، اور خصوصاً پی سی بی میں اب تک ہونے والے کھیل کو روکا جائے گا۔ اسی لیے احسان مانی کے چیرمین کا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی پی سی بی میں تبدیلیوں کا آغاز ہورہا ہے۔
چیئرمین پی سی بی بننے کے بعد احسان مانی نے اپنا پالیسی بیان میڈیا کو دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پی سی بی میں شفافیت اور احتساب کا نظام لائیں گے، سب سے پہلے خود کو احتساب کےلیے پیش کریں گے، ایک ماہ میں پی سی بی کے اکاؤنٹ کے معاملات ویب سائٹ پر جاری کر دیے جائیں گے، بورڈ سے متعلق کوئی بھی بات میڈیا سے نہیں چھپائی جائے گی، معلومات حاصل کرنے کےلیے ایک طریقہ کار ہوگا جس کے تحت میڈیا ڈپارٹمنٹ کام کرے گا۔

نجم سیٹھی کے دورمیں جو ہوتا رہا ہے اس حوالے سے اب نئی انتظامیہ چھان بین کرے گی، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ نجم سیٹھی پی ایس ایل کرانے میں کامیاب ہوئے اور پی ایس ایل کے ذریعے ہی بین الاقوامی کرکٹ پاکستان میں واپس آئی، نئے چیئرمین احسان مانی کا کہنا تھا کہ پی سی بی اور پی ایس ایل کا 3 سال کا آڈٹ کرایا جائے گا۔ کرپشن کسی مرحلے پر بھی ہوئی ہو قابل معافی نہیں، ہم ضرور کارروائی کریں گے، بورڈ کی رقم اگر لوٹی گئی تو واپس لانے کی بھی کوشش کریں گے۔

نئے چیئرمین کی جانب سے یہ بات خوش آئند ہے کہ پی سی بی اور پی ایس ایل کا آڈٹ کرایا جائے گا اور ایسے نیک کام میں کسی کو مخالفت بھی نہیں کرنی چاہیے، لیکن گزارش اس میں یہ ہے کہ آڈٹ کسی مخصوص دور کا نہیں ہونا چاہیے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے جتنے چیئرمین گزرے ہیں ان سب کے تمام ادوار کا آڈٹ ہونا چاہیئے اور قوم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کس چیرمین کے دور میں کیا ہوتا رہا ہے، کن کن کو پاکستان کرکٹ بورڈ میں نوازا گیا اور کس کس کے چہیتے پی سی بی کے پیسوں پر مزے کرتے رہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے تمام وزراء اور سرکاری محکموں کو کفایت شعاری کا حکم دیا گیا ہے اور وزیراعظم نے اس کا آغاز اپنے آفس سے کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ملازمین اور گاڑیوں کی تعداد کم کردی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کفایت شعاری پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی نظر آئے گی؟

کفایت شعاری پی سی بی میں بھی ہونی چاہیے، نئے چیرمین کو اپنی ذات سے اس کا آغاز کرتے ہوئے پی سی بی کے خرچے پر بیرون ملک دورے ختم کرنے کا اعلان کرنا چاہیے، پاکستان کرکٹ بورڈ کے خرچے پر بیرون ملک سفر کرنے والوں کا بھی نہ صرف آڈٹ کرانا چاہیئے بلکہ اس پر پابندی بھی عائد کرنی چاہیئے۔ نئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی کو یہ معلوم ہوگا اور معلوم ہونا بھی چاہیئے کہ کرکٹ ٹیم کے غیر ملکی دورے کے موقع پر میڈیا سے وابستہ مخصوص شخصیات کو بھی کرکٹ بورڈ کے خرچے پر ساتھ لے جایا جاتا ہے، جبکہ یہ ذمہ داری متعلقہ میڈیا ہاؤسز کی بنتی ہے۔ قوم کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اب تک اس مد میں پی سی بی کا کتنا خرچہ کیا گیا ہے اور ایسی فہرست سامنے آنی چاہیے کہ کون کون سے صحافی پی سی بی کے خرچے پر غیر ملکی دورے کر چکے ہیں۔

نئے چیئرمین پی سی بی سے یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ وہ ڈومیسٹک سطح پر کرکٹ کی بہتری پر توجہ دیں گے۔ اگرچہ پی سی بی آئین کے مطابق کرکٹ ایسوسی ایشنز کام کررہی ہیں لیکن اس میں سیاسی اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہوگا اور باصلاحیت کرکٹرز کو آگے لانے کےلیے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ تبدیلی کا یہ سفر صرف پاکستان کرکٹ بورڈ تک نہیں رکنا چاہیے، اسے دوسرے کھیلوں کے سربراہان تک بھی بڑھانا چاہیے۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ پر بھی نظر رکھنی ہوگی اور کرکٹ کے ساتھ دوسرے کھیلوں کے فروغ کےلیے بھی اقدامات اٹھانا ہونگے۔

وزیراعظم عمران خان کو قومی کھیل ہاکی پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی جو زوال کا شکار ہوچکی ہے۔ اور ہاکی کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دینی چاہیے جو ہاکی کی بہتری کے بارے میں بہتر سوچ رکھتے ہوں؛ ایسے لوگوں کو آگے لانا چاہیے جو ہاکی کو سمجھ سکتے ہوں۔ اسی طرح اسکواش کو بھی بچانا ہوگا اور ایسے عوامل کا سدباب کرنا ہوگا جس کے باعث اسکواش کی دنیا پر حکمرانی نہیں کر پا رہے۔ لاکھوں کروڑوں روپے ہر سال کھیلوں پر خرچ کیے جارہے ہیں لیکن نتائج صفر ہیں۔ سیاسی میدان کے ساتھ کھیلوں کے میدان بھی تبدیلی کے منتظر ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close