دنیا

جنگل میں آگ، کینیڈین صوبے البرٹا میں ایمرجنسی نافذ

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں حکام نے فورٹ مک مرے کے جنگل میں آگ لگنے اور شہر کی پوری آبادی کے انخلا کا حکم دیے جانے کے بعد ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تیزی سے پھیلتی آگ مذکورہ شہر کا زیادہ تر علاقہ تباہ کر سکتی ہے اور اس سلسلے میں آئندہ 24 گھنٹے بہت اہم ہیں۔

آگ سے شہر کو لاحق خطرے کے باعث 88 ہزار افراد پر مشتمل آبادی کو محفوظ مقام کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔

یہ نقل مکانی البرٹا کی تاریخ کی سب سے بڑی جبری نقل مکانی ہے۔

البرٹا کے حکام کا کہنا ہے کہ آگ سے فورٹ مک مرے میں 1600 عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ خطرہ ہے کہ یہ مزید بے قابو ہو جائے گئی۔

یہ آگ اتوار کو شہر کے جنوبی مغربی حصے میں لگی تھی اور تاحال اس واقعے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

امکان تھا کہ آگ بجھانے والا عملہ منگل تک آگ پر قابو پا لے گا لیکن تیز ہوا نے اسے مزید پھیلا دیا۔

البرٹا میں ہنگامی امداد کے ادارے کے ڈائریکٹر سکاٹ لانگ کا کہنا تھا کہ ’بری خبر وقت کے ساتھ اچھی نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ ہم شہر کا ایک بڑا حصہ کھو دیں گے۔ ‘

آگ بجھانے والے اداروں کا کہنا ہے کہ تیز ہوائیں اور گرم درجہ حرارت کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔

فضائی جائزے کے بعد بتایا گیا ہے کہ آگ کی لپٹیں اب شہر کے شمال اور مشرق کی جانب جا رہی ہیں۔ خدشہ ہے کہ آگ جلد ہی شہر کے ہوائی اڈے کے گرد پھیل جائے گی۔

حکام کے مطابق آگ 7500 ہیکٹر رقبے پر پھیلی ہوئی ہے اور آگ بجھانے والے 100 کارکن اس کے نمٹنے میں لگے ہیں۔

آگ بجھانے میں مدد کے لیے فضائی اور زمینی فوج روانہ کی جا رہی ہے لیکن اسے وہاں پہنچنے میں دو دن لگ جائیں گے۔

فورٹ مرے تیل کی دولت سے مالا مال صحرائی خطے میں واقع ہ

ے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close